اسلام آباد (مشرق نامہ)– برطانیہ نے پاکستانی طلبہ اور ورکرز کے لیے ای ویزا سسٹم متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد امیگریشن اور بارڈر مینجمنٹ نظام کو جدید، محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔ یہ اقدام پاکستان اور برطانیہ کے مابین تجارتی مذاکراتی معاہدے اور بزنس ایڈوائزری کونسل کے قیام کے اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، اب برطانیہ زیادہ تر طلبہ اور ورکر ویزا درخواست دہندگان کے لیے جسمانی امیگریشن دستاویزات کی جگہ ای ویزا جاری کرے گا۔ برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے اس تبدیلی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اُن تمام افراد پر لاگو ہوگا جو چھ ماہ سے زیادہ قیام کی ویزا کیٹیگریز میں درخواست دے رہے ہیں۔
ای ویزا ایک آن لائن امیگریشن اسٹیٹس ریکارڈ ہوگا، جو ویزا کے عمل کو آسان، شفاف اور محفوظ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق، لاکھوں افراد پہلے ہی دیگر امیگریشن راستوں کے تحت ای ویزا استعمال کر چکے ہیں۔
ای ویزا کے لیے اہل افراد میں وہ طلبہ شامل ہیں جو چھ ماہ سے زائد مدت کے لیے برطانیہ جانا چاہتے ہیں، جبکہ ورک ویزا کیٹیگریز جیسے اسکلڈ ورکر، گلوبل ٹیلنٹ اور ٹیمپریری ورک میں آنے والے ملازمین بھی اس نظام سے مستفید ہوں گے۔ البتہ وزیٹر ویزا یا انحصار کنندگان (dependents) کے لیے ابھی بھی جسمانی ویزا ہی درکار ہوگا۔
واضح رہے کہ برطانوی حکومت نے پہلے ہی 2024 میں اعلان کیا تھا کہ امیگریشن نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنایا جائے گا تاکہ کاغذی دستاویزات کی جگہ ایک آن لائن نظام اپنایا جا سکے۔
ای ویزا رکھنے والے افراد اپنے سفری دستاویزات کو یو کے وی آئی (UKVI) اکاؤنٹ سے منسلک کر سکیں گے، جس سے بین الاقوامی سفر مزید آسان ہوگا۔ جن کے پاس پہلے سے جاری جسمانی ویزا موجود ہے اور وہ ابھی بھی مؤثر ہے، انہیں کسی قسم کی فوری کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں۔
برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ کے مطابق، یہ نظام نہ صرف ویزا عمل کو تیز تر بنائے گا بلکہ پاسپورٹ کو اپنے پاس رکھنے کی سہولت بھی فراہم کرے گا، جس سے درخواست دہندگان کا وقت اور وسائل دونوں بچیں گے۔

