غزه (مشرق نامہ)– صہیونی ریاست کی بلا امتیاز فضائی بمباری میں فلسطینی قانون ساز اور سابق وزیرِ انصاف فراج الغول شہید ہو گئے ہیں، جب کہ غزہ بھر میں وسیع پیمانے پر تباہی اور جانی نقصان کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
المیادین نے فلسطینی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ذرائع نے منگل کے روز اطلاع دی ہے کہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن اور عدالتی کمیٹی کے سربراہ فراج الغول غزہ شہر میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہو گئے۔
المیادین کے نمائندے کے مطابق، صہیونی جنگی طیاروں نے غزہ شہر کے مغرب میں واقع الشاطیٰ پناہ گزین کیمپ کے شہداء چوک کے قریب ایک رہائشی مکان پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں فراج الغول سمیت پانچ فلسطینی شہید اور تیرہ سے زائد زخمی ہو گئے۔
اس کے علاوہ شمالی غزہ کے جبالیا میں الزرقاء کے علاقے میں ایک اور گھر پر اسرائیلی حملے میں کئی مزید فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔
قابض صہیونی افواج نے جبالیا قصبے کے مشرق میں رہائشی عمارتوں کو بھی منہدم کر دیا، جبکہ الشاطیٰ کیمپ میں ایک اور گھر کو نشانہ بنایا۔ غزہ شہر کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں متعدد مکانات کو مسمار کر دیا گیا۔
مشرقی غزہ کے الشجاعیہ محلے پر شدید بمباری کی گئی، جہاں ایمبولینس عملے کو متاثرہ علاقوں تک رسائی سے روکا گیا۔ اسی طرح، صہیونی جنگی طیاروں نے تل الہوی میں واقع القدس اسپتال کے عقب میں "العودہ ٹاور 2” کو بھی نشانہ بنایا۔
نسل کشی کا سلسلہ بلا توقف جاری ہے، اور صہیونی قابض افواج شہری آبادی کو براہِ راست نشانہ بنا کر غزہ میں شہادتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہی ہیں۔ صرف گزشتہ روز 51 فلسطینی شہید ہوئے۔ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک شہداء کی مجموعی تعداد تقریباً 58,000 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 138,095 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ان میں اکثریت نہتے خواتین اور بچوں کی ہے۔

