مقبضہ فلسطين / شام (مشرق نامہ)– قابض صہیونی حکومت نے جنوبی شام میں موجود شامی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کیے ہیں، جنہیں دروز برادری کے تحفظ اور مبینہ "غیر فوجی حیثیت کی پالیسی” کی خلاف ورزی کا جواز دے کر انجام دیا گیا۔
صہیونی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور نام نہاد وزیرِ سلامتی یسرائیل کاٹس نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا کہ انہوں نے قابض فوج کو ہدایات جاری کی ہیں کہ شام کے سرکاری فوجی اہداف کو نشانہ بنایا جائے، جن پر دروز برادری کے افراد پر حملوں کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ قابض افواج ان "فوجی یونٹس اور ہتھیاروں” کو نشانہ بنائیں گی جو السویداء کے علاقے میں تعینات کیے گئے ہیں، اور جنہیں نام نہاد "غیر فوجی حیثیت کی پالیسی” کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کے تحت جنوبی شام میں شامی فوج کی موجودگی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل شام میں دروز برادری کو نقصان سے بچانے کے لیے پُرعزم ہے، کیونکہ ہمارے اسرائیلی دروز شہریوں کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات اور ان کے شام میں موجود اہل خانہ سے تاریخی رشتے موجود ہیں۔
قابض حکام نے ان حملوں کو "شامی حکومت کو ان کے خلاف کارروائی سے روکنے” اور "ہمارے ساتھ ملحقہ علاقے کی غیر فوجی حیثیت کو یقینی بنانے” کا اقدام قرار دیا۔ اس دوران صہیونی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ صہیونی فضائیہ نے جنوبی شام پر وسیع پیمانے پر حملے کیے ہیں۔
یہ بیانات السویداء اور اس کے نواح میں کشیدہ صورتحال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جہاں شامی حکومت حالیہ مسلح جھڑپوں کے بعد مسلح گروہوں کے خلاف آپریشن کر رہی ہے۔ ان جھڑپوں میں دروز برادری اور بدو قبائل کے درمیان شدید تصادم ہوا۔
منگل کے روز "شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق” نے دعویٰ کیا کہ ان تصادمات میں 116 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
السویداء کے قریب شامی افواج کو صہیونی حملوں کا نشانہ
المیادین سے بات کرنے والے مقامی ذرائع کے مطابق، پیر کے روز قابض صہیونی جنگی طیاروں نے السویداء کے جنوبی دیہی علاقے میں شامی وزارتِ دفاع سے منسلک نئی عسکری تنظیموں کو نشانہ بنایا۔
حملوں کا مرکز وہ قافلے اور عسکری اجتماع تھے جو السویداء شہر کو دیہات المزرعہ سے ملانے والی اسٹریٹجک شاہراہ پر متحرک تھے، اور جہاں شامی حکومت کے حامی عسکری گروہ موجود تھے یا پیش قدمی کر رہے تھے۔
ان حملوں کے ردعمل میں صہیونی وزیرِ سلامتی یسرائیل کاٹس نے تصدیق کی کہ یہ حملے شعوری طور پر انجام دیے گئے اور ان کا مقصد شام کے عبوری صدر احمد الشرع کی حکومت کو ایک "واضح پیغام اور انتباہ” دینا تھا۔
کاٹس نے مزید دعویٰ کیا کہ صہیونی ریاست شام میں دروز برادری کو درپیش کسی بھی ممکنہ خطرے کے سامنے خاموش نہیں رہے گی، اور اس حوالے سے "ضروری اقدامات” اٹھائے گی تاکہ دروز برادری کو کسی بھی نقصان یا اثراندازی سے بچایا جا سکے۔

