جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیغزہ پر تنقید دبانے کیلئے ’یہود دشمنی‘ کا استعمال ناقابل قبول: امریکی...

غزہ پر تنقید دبانے کیلئے ’یہود دشمنی‘ کا استعمال ناقابل قبول: امریکی اداکار
غ

نیویارک(مشرق نامہ)– ایک ممتاز امریکی یہودی اداکار جوڑے نے غزہ میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو روکنے کے لیے "یہود دشمنی” کے الزامات کے استعمال کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اداکار مینڈی پیٹنکن اور ان کی شریکِ حیات کیتھرین گراوڈی نے نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں اسرائیلی حکومت کی پالیسیاں نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا بھر میں یہودی برادری کے لیے خطرناک ثابت ہو رہی ہیں۔

گراوڈی نے کہا کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے، وہ یہودیوں کے لیے بدترین چیز ہے۔ یہ اُن تمام لوگوں کے لیے مشعل راہ بن رہا ہے جو دل میں یہود دشمنی رکھتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا اس جنگ سے ایک پوری نسل شدید زخموں، صدموں اور غصے کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے، اور یہ بالکل فطری ردِعمل ہے۔ میں جو کچھ میرے نام پر کیا جا رہا ہے، اس پر شدید پریشان اور خوفزدہ ہوں۔ اسی لیے میں ان تمام یہودیوں پر فخر کرتی ہوں جو مشرقِ وسطیٰ کے انسانوں کی انسانیت کے لیے کھڑے ہو رہے ہیں۔

ادھر پیٹنکن، جو مشہور فلم The Princess Bride میں کام کر چکے ہیں، نے اسی فلم کی ایک لائن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میں اتنے عرصے سے انتقام کے کام میں مصروف رہا ہوں کہ اب جب یہ سب ختم ہو رہا ہے، تو مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ زندگی کا باقی وقت کیا کروں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں دنیا بھر کے یہودیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سوچیں کہ یہ شخص — بنیامین نیتن یاہو — اور اس کی دائیں بازو کی حکومت، یہودی قوم کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔ یہ نہ صرف اسرائیلی ریاست کو — جس کی بقا میرے لیے بہت اہم ہے — خطرے میں ڈال رہے ہیں بلکہ دنیا بھر میں یہودی برادری کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

فنکاروں پر دباؤ

غزہ میں اسرائیلی جنگ — جس میں اکتوبر 2023 سے اب تک 60 ہزار سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں — نے امریکی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں بھی شدید تقسیم پیدا کر دی ہے۔

اداکاروں، فنکاروں اور پروڈکشن اسٹاف کی ایک بڑی تعداد نے دعویٰ کیا ہے کہ انڈسٹری میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو دبانے کے لیے ایک منظم مہم جاری ہے۔

درجنوں افراد — بشمول رقاص، بڑھئی، سیٹ ڈیزائنرز، اینیمیٹرز، موسیقار اور اسکرین رائٹرز — نے Middle East Eye کو بتایا ہے کہ انہیں فلسطین کے حق میں آواز بلند کرنے کی پاداش میں سزا دی گئی۔

فروری میں، اسرائیلی افواج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں آسکر جیتنے والی ڈاکیومنٹری No Other Land کے شریک ہدایت کار حمدان بلال کو تشدد کا نشانہ بنایا اور حراست میں لے لیا۔ ان کے ساتھی ہدایت کار باسل عدرا کے مطابق یہ حملہ ممکنہ طور پر "ہماری فلم سازی کے خلاف انتقامی کارروائی” تھی۔

اگرچہ بلال کو آسکر سے نوازا گیا تھا، لیکن اکیڈمی نے اسرائیلی کارروائی کی مذمت نہیں کی بلکہ محض ایک مبہم بیان جاری کیا، جس میں "تشدد کی رپورٹس” پر افسوس کا اظہار کیا گیا اور "دنیا کے کسی بھی حصے میں ایسے تشدد” کی مذمت کی گئی۔

نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، گراوڈی اور پیٹنکن — جو طویل عرصے سے غزہ میں جنگ بندی کے حق میں آواز بلند کرتے آ رہے ہیں — نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقے ’یہود دشمنی‘ کے الزامات کو سیاسی تنقید کو خاموش کرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

گراوڈی نے کہا کہ مجھے شدید نفرت ہے ان لوگوں سے جو کسی بھی پالیسی پر تنقید کو ’یہود دشمنی‘ قرار دے دیتے ہیں۔ میرے نزدیک غزہ کے ہر انسان کے لیے ہمدردی رکھنا ایک بنیادی یہودی قدر ہے۔ اور اگر میں اس ملک کے لیڈر کی پالیسیوں کو ناپسند کرتی ہوں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میں خود سے نفرت کرنے والی یہودی ہوں یا یہود دشمن ہوں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین