قم (مشرق نامہ)– ایران کے شہر قم کے نواحی علاقے میں واقع ایک رہائشی کمپلیکس میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم سات افراد زخمی ہو گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق دھماکہ پیر کی صبح نسیم پردیسان رہائشی منصوبے میں پیش آیا۔
ایران کی اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک (SNN) نے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ ڈاکٹر محمد جواد باقری کے حوالے سے بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کم از کم پانچ ایمرجنسی گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچیں۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق، دھماکہ ایک رہائشی عمارت میں ہوا جس سے کم از کم چار فلیٹس کو نقصان پہنچا، جبکہ قریبی عمارتوں کی کھڑکیاں بھی ٹوٹ گئیں۔ فائر بریگیڈ اور پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر موقع پر روانہ کر دیا گیا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمارت کے قریب کئی گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں۔
فارس کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ دھماکہ گیس لیکیج کے باعث ہوا، تاہم مکمل تفتیش جاری ہے تاکہ اسباب کی تصدیق کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف حصوں میں متعدد پراسرار دھماکے ہو چکے ہیں، جنہیں بعض سوشل میڈیا حلقوں نے اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ 12 روزہ جنگ سے جوڑا ہے۔
فارس نے ایک نامعلوم عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ "عوام کو ایسے بیانیے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں”، اور اگر کسی دشمنانہ کارروائی کا خدشہ ہوا تو "اس کی خبر عوام کو فوراً دے دی جائے گی۔”
یاد رہے کہ 24 جون کی جنگ بندی کے بعد ایران کے مختلف علاقوں — جنّت آباد، کرمانشاہ اور مغربی تہران کے چیتگر علاقے سمیت — میں دھماکے ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن کے بارے میں کچھ قیاس آرائیاں ہیں کہ یہ اسرائیلی ڈرون حملے ہو سکتے ہیں جو ایران کے اندر سے کیے گئے ہوں۔ تاہم ایرانی حکام ان دعووں کی تردید کر چکے ہیں۔
چیتگر کے علاقے میں پیش آنے والے حالیہ دھماکے میں بھی سات افراد زخمی ہوئے تھے، جس کی وجہ گیس کا اخراج بتائی گئی۔
دھماکے کے اگلے ہی دن ایران کے ممتاز عالم دین اور سابق جنگی کمانڈر علی طائب کی موت کی خبر سامنے آئی۔ طائب، آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ کے جانباز اور رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے سراللہ ہیڈکوارٹر میں نمائندے رہ چکے تھے، جو پاسدارانِ انقلاب کی داخلی سلامتی کی مرکزی کڑی تصور کیا جاتا ہے۔
اگرچہ ان کی موت کی وجہ نہیں بتائی گئی، تاہم وہ ان دو اہم شخصیات — حسین طائب اور مہدی طائب — کے بھائی تھے جو ایران کی مذہبی و سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں، اور حالیہ جنگ کے دوران اسرائیلی حملوں کا ہدف بھی بنے رہے ہیں۔

