ماسکو(مشرق نامہ)– روس نے ایک امریکی خبر کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کو امریکہ کے ساتھ ایک ایسے جوہری معاہدے کو قبول کرنے کی ترغیب دی ہے جس میں یورینیم کی افزودگی شامل نہ ہو۔ روسی وزارت خارجہ نے اس دعوے کو "سیاسی بہتان تراشی” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
یہ بیان اتوار کو جاری کیا گیا، جس سے ایک روز قبل امریکی نیوز ویب سائٹ Axios نے تین نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی تھی کہ پیوٹن نے ایران پر زور دیا کہ وہ ایسا معاہدہ قبول کرے جس میں یورینیم کی افزودگی کا حق شامل نہ ہو۔
روسی وزارت خارجہ نے اس دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ بظاہر ایک نئی سیاسی بہتان تراشی کی مہم ہے جس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کے گرد کشیدگی کو مزید ہوا دینا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم نے ہمیشہ اس امر پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بحران کا حل صرف اور صرف سیاسی و سفارتی ذرائع سے ممکن ہے، اور ہم باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کئی بار واضح کر چکا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے یورینیم افزودگی کے حق کو سلب کرتا ہو۔ تہران کا مؤقف ہے کہ جوہری مذاکرات میں افزودگی کا حق ایک ناقابلِ تنسیخ قومی حق ہے۔
روس طویل عرصے سے ایران کے پرامن جوہری توانائی کے حق کی حمایت کرتا رہا ہے۔ صدر پیوٹن نے جون میں ایک بار پھر ماسکو کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایران کو پرامن مقاصد کے لیے جوہری ترقی میں تعاون کی پیشکش بھی کی تھی۔

