جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیامریکی چِپ ٹیکس معیشت و عالمی رسد کیلیے خطرہ٬ جنوبی کوریا کا...

امریکی چِپ ٹیکس معیشت و عالمی رسد کیلیے خطرہ٬ جنوبی کوریا کا انتباہ
ا

سیول (مشرق نامہ)— جنوبی کوریا نے امریکہ کی جانب سے سیمی کنڈکٹرز پر مجوزہ محصولات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف اس کی برآمدات پر مبنی معیشت کو نقصان پہنچائے گا بلکہ عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کرے گا اور تجارتی پالیسیوں میں تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

بلوم برگ کی پیر کے روز کی رپورٹ کے مطابق، جنوبی کوریا نے امریکہ کے آئندہ سیمی کنڈکٹر ٹیکسز پر فوری خدشات کا اظہار کیا ہے، جن کا اطلاق ممکنہ طور پر یکم اگست سے متوقع ہے۔ کوریا کے وزیر تجارت یئو ہان کو نے کہا کہ یہ ڈیوٹیز سام سنگ الیکٹرانکس اور ایس کے ہائنکس جیسے قومی اداروں کو سخت دھچکا دے سکتی ہیں اور بین الاقوامی سپلائی چین میں خلل ڈالنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

یئو نے کہا کہ ہم متعلقہ وزارتوں، اسٹیک ہولڈرز اور نیشنل اسمبلی کے ساتھ وسیع مشاورت کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ غیر ٹیرف رکاوٹوں اور متعلقہ امور پر مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے واشنگٹن کا ایک اور دورہ بھی کیا جائے گا۔

سیمی کنڈکٹرز کی اہمیت

سیمی کنڈکٹر انڈسٹری جنوبی کوریا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، جو اس کی مجموعی برآمدات کا 19 فیصد سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے اور ملک کی اقتصادی ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے۔ بلوم برگ کے مطابق، سام سنگ اور ایس کے ہائنکس دنیا کی میموری چِپ مارکیٹ کا 60 فیصد سے زیادہ کنٹرول کرتے ہیں، جو نہ صرف کوریا بلکہ عالمی ٹیک مینوفیکچرنگ کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ سیول امریکی محصولات کو اس اسٹریٹجک صنعت کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔

ٹرمپ اور بائیڈن انتظامیہ دونوں نے "قومی سلامتی” کے نام پر 1962 کے ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ کی سیکشن 232 کا استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی چِپ ساز اداروں پر محصولات عائد کیں۔ اگرچہ اس اقدام کو غیر ملکی انحصار کم کرنے اور ملکی پیداوار بڑھانے کے طور پر پیش کیا گیا، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک تحفظ پسند پالیسی ہے جس کا مقصد غیر ملکی حریفوں کو کمزور کر کے امریکی صنعت کو فائدہ دینا ہے۔

یئو نے کہا کہ حالیہ مذاکرات "ایک مشترکہ مقام” کی طرف بڑھ رہے ہیں، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ سیمی کنڈکٹر جیسے اہم شعبوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات کے مضمرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

تجارتی توازن کی کوششیں

یئو نے بلوم برگ کو بتایا کہ جنوبی کوریا کا وسیع تر مقصد صرف سیمی کنڈکٹر نہیں، بلکہ آٹوموبائل اور اسٹیل جیسے شعبوں پر موجودہ محصولات کو کم کرنا بھی ہے تاکہ دونوں ممالک کے معاشی مفادات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جنوبی کوریا ایک طویل المیعاد معاہدہ چاہتا ہے جو پالیسی کی پیش گوئی کو ممکن بنائے اور واشنگٹن کی "غیر متوقع ٹیرف پالیسیوں” سے محفوظ رکھے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی کوریا اکیلا نہیں، اور کئی دیگر ممالک بھی واشنگٹن کی ٹیرف پالیسیوں کے غیر متوقع استعمال سے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جو اب ایک اہم امریکی تجارتی حربہ بن چکا ہے، خاص طور پر سابق صدر ٹرمپ کے دور سے۔

زرعی تجارت اور حساس مسائل

مذاکرات میں زرعی تجارت جیسے حساس معاملات پر بھی بات چیت جاری ہے۔ یئو نے اعتراف کیا کہ امریکہ جنوبی کوریا کی زرعی منڈیوں کو مزید کھولنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ "زرعی مذاکرات کبھی بھی تکلیف سے خالی نہیں ہوتے،” جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں کٹھن سمجھوتے ممکن ہیں۔

فیصلہ کن مہینہ

یکم اگست کی ڈیڈلائن قریب آتے ہی، جنوبی کوریا اپنی بنیادی اقتصادی مفادات کو محفوظ رکھتے ہوئے ایک ایسا معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو تیزی سے بدلتے امریکی تجارتی رویے اور عالمی صنعتی مسابقت کے منظرنامے میں توازن قائم رکھ سکے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین