ماسکو (مشرق نامہ) — روس نے پیر کے روز امریکا اور ڈنمارک کے درمیان طے پانے والے نئے دفاعی معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہ صرف اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے بلکہ کہا ہے کہ یہ معاہدہ نیٹو کی سرحدی موجودگی میں خطرناک اضافہ اور ڈنمارک کی خودمختاری پر کاری ضرب ہے۔
یہ معاہدہ دسمبر 2023 میں دستخط کیا گیا تھا اور ڈنمارک کی پارلیمان نے اسے 11 جون 2025 کو منظوری دی۔ اس کے تحت امریکا کو آئندہ دس برسوں کے لیے ڈنمارک کی تین اہم فضائی عسکری تنصیبات — کاروپ، سکریدسٹرپ، اور آلبورگ — تک مکمل رسائی حاصل ہو جائے گی۔
معاہدے کے مطابق امریکی افواج کو ان اڈوں پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، فوجی سازوسامان کی پیشگی تنصیب، اور اہلکاروں کی مستقل تعیناتی کی اجازت ہو گی، اور وہ مکمل امریکی فوجی اور قانونی دائرۂ اختیار میں کام کریں گی، جس پر ڈنمارک کے حکام کی نگرانی نہایت محدود ہو گی۔
ماسکو کا سخت موقف
ماسکو میں حکام نے اس پیش رفت کو روسی سرحد کے قریب نیٹو کی فوجی پوزیشن میں "غیر معمولی اضافہ” قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی۔ روس کے ڈنمارک میں سفیر ولادیمیر باربین نے خبررساں ادارے ریا نووستی سے گفتگو میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکا کو روسی سرحدوں کے قریب خطرناک عسکری ڈھانچہ قائم کرنے کا اختیار دیتا ہے، جو روس کی قومی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ امریکا اپنی فوجی تنصیبات کو روس کی سرحد کے قریب قائم کرے اور ڈنمارک کی سرزمین سے ہماری قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالے۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ یہ معاہدہ عملی طور پر کس انداز میں نافذ ہوتا ہے۔
باربین نے خاص طور پر اس نکتے پر تشویش ظاہر کی کہ ڈنمارک کو اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ امریکا اس کی سرزمین پر ایٹمی ہتھیار تعینات نہیں کرے گا، بالخصوص جب کہ معاہدہ امریکا کو قانونی استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔
خودمختاری اور داخلی اعتراضات
باربین نے کہا کہ اس تناظر میں، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ڈنمارک واقعی پرامن حالات میں اپنی سرزمین پر ایٹمی ہتھیاروں کی تعیناتی سے بچنے کی ضمانت دے سکتا ہے؟
ڈنمارک کے اندر بھی اس معاہدے پر خاصا تنازع کھڑا ہو چکا ہے۔ حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈنمارک کی نصف کے قریب آبادی مستقل امریکی فوجی اڈوں کی مخالفت کر رہی ہے اور امریکا کو ایک ابھرتا ہوا سیکورٹی خطرہ سمجھتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدہ ڈنمارک کی خودمختاری کو مجروح کرتا ہے، کیونکہ غیر ملکی افواج کو قانونی استثنیٰ حاصل ہو گا اور مقامی حکومت کو ان کی سرگرمیوں پر کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہو گا۔
ڈنمارک کے انسانی حقوق کے قومی ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایسے حالات میں اگر شہری مظاہرے یا بے چینی پیدا ہو، تو امریکی فوجی کارروائیوں کا کوئی جوابدہ نظام موجود نہیں ہو گا۔
سیاسی مخالفت
متعدد اپوزیشن جماعتوں نے معاہدے کی سخت مخالفت کی ہے۔ یونٹی لسٹ کے رہنما پیلے ڈراگسٹڈ نے اسے "ملک کے لیے نقصان دہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت ڈنمارک کی زمین کا کچھ حصہ براہِ راست غیر ملکی تسلط میں دیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری نگرانی بھی کمزور ہو گی۔
اگرچہ اندرون ملک مخالفت مضبوط ہو رہی ہے، حکومت نے پارلیمان میں اکثریتی ووٹ کے ذریعے معاہدہ منظور کروا لیا، اور اسے یورپی سلامتی اور امریکا سے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ناگزیر قدم قرار دیا۔ وزیراعظم میٹے فریڈریکسن نے وضاحت دی کہ اگر قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہوا تو معاہدے سے دستبرداری کی شق بھی موجود ہے۔
روسی تناظر: نیٹو کا گھیراؤ
ماسکو میں اس معاہدے کو یورپ میں نیٹو کے عسکری گھیراؤ کی وسیع حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اسی نوعیت کے دو طرفہ دفاعی معاہدے حال ہی میں فن لینڈ اور سویڈن کے ساتھ بھی کیے گئے ہیں۔
کریملن کا مؤقف ہے کہ یہ تمام اقدامات یورپی سلامتی کو عسکری قالب میں ڈھالنے کی روش کا مظہر ہیں اور یہ کہ مغرب کو چاہیے کہ باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت کرے۔
روسی حکام کا کہنا ہے کہ وہ نیٹو کے ساتھ سنجیدہ بات چیت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ یک طرفہ عسکری اقدامات ترک کیے جائیں اور مکالمے کو اصولی بنیاد پر استوار کیا جائے۔

