غزه (مشرق نامہ)– مرکزی غزہ میں پانی جمع کرنے کی جگہ پر اسرائیلی حملے میں چھ بچوں سمیت کم از کم 10 فلسطینی شہید ہو گئے، جبکہ محصور علاقے میں قحط پھیل رہا ہے اور خوراک و پانی کی قلت خطرناک سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اتوار کے روز اسرائیلی فورسز نے غزہ کے مختلف علاقوں میں رہائشی علاقوں اور جبری بے دخل کیمپوں کو نشانہ بناتے ہوئے کم از کم 59 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں سے 28 صرف غزہ شہر میں شہید ہوئے۔ یہ معلومات طبی ذرائع اور مقامی باشندوں نے الجزیرہ کو فراہم کیں۔
نصیرات پناہ گزین کیمپ میں پانی کی تقسیم کے مقام پر کیے گئے اس حملے میں 16 افراد زخمی بھی ہوئے۔ اسرائیلی فوج کے حملوں میں شدت اس وقت آئی ہے جب وہ پورے غزہ کی آبادی کو جبری طور پر جنوبی حصے میں قائم کردہ ایک ’ارتکازی زون‘ میں دھکیلنے کی تیاری کر رہی ہے۔
الجزیرہ کے نمائندے ہانی محمود نے غزہ شہر سے رپورٹ کرتے ہوئے کہا کہ پورے غزہ میں پانی کی شدید قلت ہے۔
انہوں نے کہا: "اگرچہ یہ پانی اکثر آلودہ ہوتا ہے اور پینے کے قابل نہیں، لیکن پیاس عوام کو ان مقامات پر آنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے، صرف گزشتہ چند ماہ میں تقریباً 10 بار ایسا ہوا کہ پانی لینے والے افراد کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔”
ہفتے کے روز اسرائیلی بمباری میں کم از کم 110 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 34 افراد وہ تھے جو رفح میں اسرائیل اور امریکہ کے زیرِ سرپرستی ’غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن‘ (GHF) کے امدادی مرکز پر خوراک کے انتظار میں کھڑے تھے۔
ہانی محمود کے مطابق، مئی کے اختتام سے اب تک GHF کی جانب سے خوراک کی تقسیم کے آغاز کے بعد تقریباً 800 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ ادارہ امداد کی تقسیم میں اقوامِ متحدہ جیسے مؤثر اور معتبر اداروں کو پیچھے دھکیل کر خود "واحد تقسیم کار” بن گیا ہے۔
انہوں نے کہا: "ایک فرد اپنے خاندان کے لیے خوراک کا ایک پیکٹ اٹھا سکتا ہے، لیکن یہ بھوکے بچوں اور دیگر اہلِ خانہ کی بھوک مٹانے کے لیے ہرگز کافی نہیں، اور یہی المیہ ہے۔”
"لوگ شمالی غزہ، غزہ شہر سے چل کر رفح تک جاتے ہیں — 12 سے 15 کلومیٹر پیدل سفر کرتے ہیں، جو ایک پورا دن لے لیتا ہے۔ کچھ رات کے وقت نکلتے ہیں اور تباہ حال عمارتوں میں سوتے ہیں تاکہ صبح جلدی پہنچ سکیں۔ مگر ان تمام کوششوں کے باوجود، وہاں ان کا استقبال گولیوں اور براہِ راست فائرنگ سے ہوتا ہے۔”
غزہ کی سرکاری میڈیا آفس کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک بھوک کے باعث کم از کم 67 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ادھر، اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) نے محصور علاقے میں غذائی قلت میں تیز رفتار اضافے سے خبردار کیا ہے، کیونکہ اسرائیلی ناکہ بندی کو 103 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
اپنے بیان میں ایجنسی نے کہا کہ غزہ کے ایک کلینک میں مارچ سے غذائی قلت کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جب سے اسرائیلی محاصرہ شروع ہوا۔ "UNRWA کو تب سے کسی قسم کی انسانی امداد غزہ لانے کی اجازت نہیں ملی،” ایجنسی نے کہا۔
یہ انتباہات اس وقت سامنے آئے جب اسرائیلی افواج نے بھوکے فلسطینیوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا۔
اتوار کے روز، نصیرات کیمپ کے مغرب میں واقع السوارکہ علاقے میں ایک مکان پر اسرائیلی فضائی حملے میں 10 افراد شہید ہو گئے۔
شمالی غزہ میں، شاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر حملے میں چھ فلسطینی شہید اور کئی زخمی ہوئے۔
غزہ شہر کے مغربی حصے میں حمید اسٹریٹ پر ایک اور فضائی حملے میں پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔
السبرا محلے میں ایک لڑکی اور ایک شخص شہید ہوئے جبکہ کئی دیگر زخمی ہوئے جب اسرائیلی فوج نے ایک گھر کو نشانہ بنایا۔
جنوبی غزہ میں، ناصر میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹروں نے خان یونس کے مغرب میں واقع الماوَسی علاقے میں ایک جبری بے دخلی کے کیمپ پر اسرائیلی حملے میں تین افراد کی شہادت کی تصدیق کی۔
اسی دوران، اسرائیلی فورسز نے غزہ شہر کے مشرقی تفّاح محلے میں کئی رہائشی عمارتوں کو دھماکے سے اُڑا دیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں جاری ہیں جب قطر میں اسرائیل اور فلسطینی گروہ حماس کے درمیان ایک ہفتے سے جاری بالواسطہ جنگ بندی مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔
اسرائیلی فوج نے بین الاقوامی برادری کی جنگ بندی کی اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے سات اکتوبر 2023 سے غزہ پر نسل کشی پر مبنی حملہ جاری رکھا ہوا ہے، جس میں اب تک 58,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
دو ملین سے زائد آبادی پر مشتمل غزہ کی تقریباً پوری آبادی اس جنگ کے دوران کم از کم ایک بار جبراً بے دخل کی جا چکی ہے، جس نے علاقے کو ایک شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا ہے۔
نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
اس کے علاوہ، جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے نسل کشی کا مقدمہ بھی بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں زیر سماعت ہے۔

