یمن (مشرق نامہ)– امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے تصدیق کی ہے کہ یمنی مسلح افواج نے صیہونی دشمن کے ساتھ جاری کھلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے شدید بحری کارروائی انجام دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، یمن کی خصوصی یونٹوں نے صیہونی رژیم سے منسلک جہازوں کے خلاف دو منظم اور پیچیدہ آپریشن کیے، جو بحری مہم کے آغاز سے اب تک کی سب سے مربوط کارروائیاں تھیں۔ یہ حملے 48 گھنٹوں سے زائد جاری رہے، جن کی ویڈیو یمنی فوجی میڈیا نے جاری کی، جس میں جہاز پر دھماکے اور اس پر قبضے کی تفصیلات شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ یہ جہاز گزشتہ دسمبر میں ایک اسرائیلی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تھا۔
اخبار نے لکھا کہ یہ کارروائیاں منصوبہ بندی اور نفاذ کے لحاظ سے ایک غیرمعمولی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان حملوں میں خودکش کشتیوں، ڈرون طیاروں اور گائیڈڈ میزائلوں کو بیک وقت استعمال کیا گیا۔ یہ سب کچھ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے یمن پر حملوں کے خاتمے کا اعلان کیے تقریباً دو ماہ ہو چکے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، ان حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ صنعاء کے پاس عالمی بحری تجارت کو مفلوج کرنے کی صلاحیت اور عزم دونوں موجود ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یمن اب جنگ کو اپنے اصولوں اور شرائط پر لڑ رہا ہے، جب کہ مغربی اتحادوں کی بحیرہ احمر سے پسپائی اور ان کے دفاعی نظاموں کی کمزوری نمایاں ہو چکی ہے، جو یمن کے مسلسل اور درست نشانہ باز حملوں کے سامنے ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
اکتوبر 2023 میں غزہ پر صیہونی جارحیت کے آغاز کے بعد سے یمن خطے کے مزاحمتی محور میں ایک مرکزی قوت کے طور پر ابھرا ہے۔ بحیرہ احمر پر اپنے اسٹریٹیجک مقام کو استعمال کرتے ہوئے، یمن نے اسرائیلی مفادات سے وابستہ بحری سرگرمیوں پر مؤثر ناکہ بندی مسلط کی ہے۔ یمنی مسلح افواج نے بارہا اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی جہاز جو صیہونی رژیم سے منسلک ہو، خصوصاً جو مقبوضہ فلسطینی بندرگاہوں جیسے ام الرشراش (ایلات) کی جانب جا رہا ہو، وہ جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔
یہ پالیسی کئی منظم بحری کارروائیوں میں عملی شکل اختیار کر چکی ہے، جن میں میجک سیز اور ایٹرنیٹی سی نامی جہازوں کی تباہی خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ ان اقدامات نے نہ صرف یمنی فوج کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیتوں کو ظاہر کیا، بلکہ ان کی مہم کے پیچھے موجود نظم و ضبط اور درستگی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ مسلح افواج نے واضح کیا ہے کہ ان کی ہر کارروائی انٹیلی جنس پر مبنی ہوتی ہے اور صرف ان جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو براہ راست اسرائیلی بندرگاہوں سے جڑے ہوتے ہیں، تاکہ ان کی اسٹریٹیجک ضبط و احتیاط کی پالیسی مزید مستحکم ہو۔
یہ تازہ ترین بحری حملے، جو 48 گھنٹوں سے زائد جاری رہے، یمنی فوجی حکمت عملی میں نمایاں ارتقا کو ظاہر کرتے ہیں — جن میں بغیر پائلٹ کشتیاں، فضائی ڈرونز، اور گائیڈڈ میزائلوں کو ہم آہنگ انداز میں استعمال کیا گیا۔ یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ یمن اب ایک محدود زمینی قوت سے بڑھ کر ایک بحری طاقت میں تبدیل ہو چکا ہے، جو نہ صرف علاقائی توازن کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ دنیا کے سب سے اہم تجارتی بحری راستوں میں دشمن کی تجارت کو درہم برہم کر سکتا ہے۔

