"بیگن ڈاکٹرائن” اسرائیل کی ایک عسکری-سیکیورٹی حکمت عملی ہے۔ جس کے تحت وہ خطے کے کسی بھی ملک کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے پیشگی عسکری کارروائی کا حق محفوظ سمجھتا ہے، چاہے کاروائی کی بین الاقوامی اجازت ہو یا نہ ہو۔
یہ حکمت عملی 1981 میں عراق کے جوہری ری ایکٹر اور 2007 میں شام کی تنصیبات پر حملے میں کامیاب رہی، کیونکہ یہ ممالک ٹیکنالوجی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے کمزور تھے۔
لیکن ایران کے معاملے میں یہ ڈاکٹرائن بری طرح ناکام ہوئی۔ ایران نے نہ صرف مکمل جوہری ایندھن سائیکل مقامی طور پر تیار کر لیا، بلکہ مضبوط سائنسی و تحقیقی انفراسٹرکچر، پورے ملک میں پھیلی ہوئی حساس تنصیبات، جدید دفاعی نظام اور کئی سطح کے سیکیورٹی نیٹ ورک قائم کئے۔
حالیہ برسوں میں اسرائیل نے شہید محسن فخری زادہ جیسے سائنسدانوں کے قتل، نطنز سمیت مختلف تنصیبات میں تخریب کاری اور دیگر حملوں کے ذریعے ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کی کوشش کی، لیکن یہ تمام اقدامات ناکام رہے۔
دو دہائیوں پر محیط اسرائیلی اور امریکی دباؤ – جس میں سائنسدانوں کا قتل، تخریب کاری اور سخت پابندیاں شامل ہیں – کے باوجود ایران کی جوہری مقاومت اس کی غیر معمولی استقامت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان حملوں نے نہ صرف ایران کا پروگرام نہیں روکا، بلکہ ٹیکنالوجی کی مقامی سازی کو تیز اور قومی عزم کو مضبوط کیا۔
مزید یہ کہ ایران کی جوہری سرگرمیاں اب پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور پوشیدہ ہو چکی ہیں اور دشمن ان کی کسی طرح کی موثر نگرانی نہیں کرسکے گا۔ یوں اسرائیل کی "بیگن ڈاکٹرائن” ایران کے سامنے ناکام ہو چکی ہے اور یہ اس کی حالیہ دہائیوں کی سب سے بڑی اسٹریٹجک غلطیوں میں سے ایک ثابت ہوئی ہے۔

