اسلام آباد(مشرق نامہ): وزیراعظم شہباز شریف آئندہ ماہ ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ چین کا دورہ کریں گے، جس کا مقصد دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور خطے کی صورتحال، خاص طور پر مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے تنازعے کا جائزہ لینا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کے ہمراہ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر بھی ہوں گے۔ دورے کی حتمی تاریخیں سفارتی ذرائع کے ذریعے طے کی جا رہی ہیں۔
یہ دورہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے کہ مئی میں بھارت کے ساتھ چار روزہ عسکری تنازعے کے دوران پاکستان کو برتری حاصل رہی، جہاں اس کی فضائیہ نے بھارت کے چھ جنگی طیارے، جن میں رافیل بھی شامل تھا، مار گرائے۔ اس جھڑپ میں چین کے تیار کردہ J-10C لڑاکا طیاروں اور PL-15 میزائلوں نے اہم کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان کے اندرونی دفاعی نظام نے ان ہتھیاروں کو مزید مؤثر بنا دیا۔ چین کے ایئر چیف نے حالیہ دورۂ پاکستان میں پاکستانی فضائیہ کے تجربات سے سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی۔
ادھر، بھارتی آرمی کے ڈپٹی چیف نے حال ہی میں دعویٰ کیا کہ بھارت دو محاذوں پر جنگ لڑ رہا ہے اور پاکستان کی عسکری کامیابی میں چین کا ہاتھ ہے۔ تاہم، پاکستانی آرمی چیف نے کور کمانڈرز کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ تنازعہ "خالصتاً دوطرفہ” تھا، جبکہ ایک اعلیٰ چینی اہلکار نے بھارتی دعوے کو ہنسی میں اڑا دیا اور کہا کہ چین ہمیشہ دونوں ہمسایہ ممالک پر زور دیتا ہے کہ مسائل کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔
اس اہم دورے سے قبل نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس ہفتے چین جائیں گے جہاں وہ 14 سے 16 جولائی تک تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کونسل (CFM) کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ یہ اجلاس چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی دعوت پر ہو رہا ہے، جس میں تمام رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے، جبکہ بیلا روس پہلی بار بطور مکمل رکن شریک ہو رہا ہے۔
CFM، ایس سی او کا تیسرا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے جو رکن ممالک کی خارجہ و سلامتی پالیسیوں پر غور کرتا ہے اور اہم اعلانات و سفارشات کو حتمی شکل دیتا ہے، جو بعد ازاں سربراہانِ مملکت کے اجلاس میں پیش کی جاتی ہیں۔ آئندہ CHS اجلاس 31 اگست تا یکم ستمبر تیانجن میں ہوگا۔ اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے

