(مشرق نامہ):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین اور میکسیکو سے درآمد کی جانے والی تمام اشیاء پر یکم اگست سے 30 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جسے یورپی یونین نے "غیر منصفانہ” قرار دیتے ہوئے جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا جب دونوں تجارتی اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میکسیکو پر عائد ٹیرف کا سبب غیر قانونی تارکین وطن اور منشیات کی امریکہ آمد ہے جبکہ یورپی یونین کے ساتھ تجارتی خسارہ اس اقدام کا جواز ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے اعلان کیا کہ یورپی یونین اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے جوابی اقدامات اٹھانے کو تیار ہے۔ فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے بھی مطالبہ کیا کہ یورپی یونین امریکی دباؤ کے آگے نہ جھکے اور مؤثر معاشی اقدامات کرے۔ دوسری جانب، میکسیکو نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک بہتر شرائط پر دوبارہ مذاکرات کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کینیڈا پر 35 فیصد اور برازیل پر 50 فیصد ٹیرف کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ ٹیرف امریکی صارفین کے لیے مہنگائی اور عالمی معیشت میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ کچھ تجزیہ کاروں نے ان اقدامات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

