شمالی کوریا(مشرق نامہ):کم جونگ اُن نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ پیونگ یانگ یوکرین میں جاری جنگ کے سلسلے میں روس کی ہر کارروائی کی ’بلا شرط حمایت‘ کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی KCNA نے اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک مذاکرات کے بعد جاری کیا، جن میں دونوں ممالک نے اپنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا۔
لاوروف تین روزہ دورے پر شمالی کوریا میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے مشرقی ساحلی شہر وونسان میں شمالی کوریا کے ہم منصب چوے سون ہوئی کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں حصہ لیا۔ یہ مذاکرات ان معاہدوں کے تسلسل میں تھے جو جون 2024ء میں روس-شمالی کوریا سربراہی اجلاس کے دوران طے پائے تھے، جن میں ایک باہمی دفاعی معاہدہ بھی شامل ہے۔
کم جونگ اُن نے لاوروف کو بتایا کہ بدلتی ہوئی عالمی جیوپولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں اتحادیوں کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات دنیا میں امن و سلامتی کے قیام میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ شمالی کوریا یوکرین کے بحران کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے کے لیے روسی قیادت کی تمام حکمت عملیوں کی غیر مشروط حمایت کرے گا۔
کم نے روسی فوج اور عوام کی جدوجہد کو ’’مقدس‘‘ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی سرزمین کے وقار اور بنیادی مفادات کے تحفظ میں یقینی کامیابی حاصل کریں گے۔
دونوں رہنماؤں نے ملاقات کے دوران جون 2024ء کے تاریخی سربراہی اجلاس میں ہونے والے معاہدوں پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
روس اور شمالی کوریا کے تعلقات یوکرین پر روسی حملے کے بعد گزشتہ دو برسوں میں غیر معمولی طور پر مضبوط ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، شمالی کوریا نے روس کو 10 ہزار سے زائد فوجی اور اسلحہ فراہم کیا ہے اور مستقبل میں مزید فوجی معاونت کا وعدہ بھی کیا ہے۔
گزشتہ برس پیوٹن کے شمالی کوریا کے تاریخی دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں باہمی دفاع کی شق بھی شامل ہے۔
سرگئی لاوروف نے کم جونگ اُن کو بتایا کہ صدر پیوٹن جلد براہ راست ملاقات کے خواہاں ہیں۔ ان کے دورے سے قبل روس نے اعلان کیا تھا کہ ماسکو اور پیونگ یانگ کے درمیان ہفتے میں دو پروازیں شروع کی جائیں گی۔
لاوروف نے وونسان شہر کی تعریف کرتے ہوئے اسے ’’ایک بہترین سیاحتی مقام‘‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ نہ صرف مقامی باشندوں بلکہ روسی شہریوں کے لیے بھی پرکشش بنے گا۔

