جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانپی سی بی میں 6 ارب روپے کا مالی سکینڈل

پی سی بی میں 6 ارب روپے کا مالی سکینڈل
پ

اسلام آباد(مشرق نامہ): آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2023-24 کے دوران پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں 6 ارب روپے سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں، غیر مجاز ادائیگیوں، مشتبہ تقرریوں اور قواعد کے برعکس ٹھیکوں کے اجرا کا انکشاف کیا ہے۔ جاری کردہ آڈٹ رپورٹ میں پی سی بی کے مالی نظم و ضبط، شفافیت اور گورننس پر سنجیدہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق فروری تا جون 2024ء کے دوران چیئرمین پی سی بی کو یوٹیلیٹی، پٹرول الاؤنس اور رہائش کے اخراجات کی مد میں 41 لاکھ 70 ہزار روپے کی غیر مجاز ادائیگیاں کی گئیں، حالانکہ وہ اس عرصے میں وفاقی وزیر داخلہ بھی تھے اور یہ مراعات پہلے ہی ان کے عہدے کے ساتھ وابستہ تھیں۔ پی سی بی نے اسے بائی لاز کے مطابق قرار دیا، مگر آڈٹ حکام نے اس وضاحت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے رقم کی واپسی کی سفارش کی۔

رپورٹ میں ڈائریکٹر میڈیا کی مشتبہ تقرری پر بھی اعتراض اٹھایا گیا ہے، جس کے مطابق 9 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر تعیناتی کے تمام مراحل صرف ایک ہی دن (2 اکتوبر 2023ء) میں مکمل کیے گئے۔ اسی طرح، بین الاقوامی میچوں کے دوران تعینات پولیس اہلکاروں کو کھانے کے اخراجات کی مد میں 6 کروڑ 33 لاکھ روپے کی ادائیگیاں بھی کی گئیں، جسے آڈٹ نے غیر قانونی قرار دیا کیونکہ سیکیورٹی کی فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، پی سی بی کی نہیں۔

رپورٹ میں کراچی میں انڈر-16 کوچز کی اہلیت سے ہٹ کر تقرری کا ذکر بھی شامل ہے، جنہیں 54 لاکھ روپے دیے گئے، اور اس پر مزید تحقیقات کی ہدایت دی گئی ہے۔ دیگر بے ضابطگیوں میں بغیر ٹینڈر کے 1.2 لاکھ ڈالر کا ٹکٹنگ کنٹریکٹ، میچ آفیشلز کو 38 لاکھ روپے زائد ادائیگیاں، غیر ضروری بسوں کے کرائے پر 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کا خرچ، پنجاب حکومت کی بلیٹ پروف گاڑیوں کے لیے ڈیزل کی مد میں 1.98 کروڑ روپے، بغیر بولی کے 19.8 کروڑ روپے کا ٹریول کنٹریکٹ، مارکیٹ ریٹ سے کم پر میڈیا رائٹس دینے سے 43.99 کروڑ روپے کا نقصان، جعلی لیز ایگریمنٹ پر دفتر کا 39 لاکھ روپے کرایہ، اور اسپانسرشپ کی مد میں 5.3 ارب روپے کی عدم وصولی شامل ہیں۔

پی سی بی کے موجودہ ڈائریکٹر میڈیا نے لاہور میں دی نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام معاملات موجودہ چیئرمین محسن نقوی کے دور سے پہلے کے ہیں، لہٰذا سابق چیئرمین سے اس بارے میں رجوع کیا جائے۔ آڈٹ رپورٹ نے شفافیت یقینی بنانے اور مالی نظم بحال کرنے کے لیے فوری تحقیقات اور رقم کی واپسی کی سفارش کی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین