جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانسرکاری اداروں کو 616 ارب کی حکومتی امداد

سرکاری اداروں کو 616 ارب کی حکومتی امداد
س

اسلام آباد (مشرق نامہ): وفاقی حکومت نے مالی سال 2025 کی پہلی ششماہی (دسمبر 2024 تا جولائی) کے دوران سرکاری ملکیت میں کام کرنے والے اداروں (SOEs) کو مجموعی طور پر 616 ارب روپے کی بھاری مالی معاونت فراہم کی، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں دی گئی 433 ارب روپے کی معاونت کے مقابلے میں 42 فیصد زیادہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق یہ مالی معاونت مختلف صورتوں میں فراہم کی گئی، جن میں سبسڈیز، گرانٹس، قرضے اور ایکویٹی شامل ہیں۔ اس سے حکومت پر ان نقصان میں چلنے والے اداروں کو برقرار رکھنے کا بڑھتا ہوا مالی بوجھ نمایاں ہوتا ہے، خصوصاً توانائی اور یوٹیلٹی کے شعبوں میں یہ واضح ہوا۔

رپورٹ کے مطابق، صرف سبسڈی کی مد میں حکومت نے 333 ارب روپے جاری کیے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔ گرانٹس کی صورت میں 113.52 ارب روپے فراہم کیے گئے، جبکہ قرضوں کی مد میں 92 ارب روپے جاری کیے گئے۔ اسی طرح، سات اداروں کو ایکویٹی کی صورت میں 77.49 ارب روپے کی مالی معاونت دی گئی۔ اس تمام رقم کا مقصد ان اداروں کو مالیاتی مشکلات سے نکالنا اور ان کے جاری آپریشنز کو ممکن بنانا تھا، اگرچہ ان میں سے بیشتر ادارے طویل عرصے سے خسارے میں جا رہے ہیں۔

سبسڈی حاصل کرنے والے بڑے اداروں میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں سرفہرست رہیں۔ ان میں سب سے زیادہ سبسڈی ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) کو 43.57 ارب روپے دی گئی، جبکہ اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) کو 42.14 ارب، حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) کو 39.59 ارب، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) کو 39.89 ارب، اور پاکستان ایگریکلچرل سٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کو 36.17 ارب روپے دیے گئے۔ اس کے علاوہ، کوئٹہ (کیسکو) کو 32 ارب، پشاور (پیسکو) کو 27 ارب، لاہور (لیسکو) کو 26 ارب، قبائلی علاقوں کے لیے ٹیسکو کو 14 ارب، گوجرانوالہ (گیپکو) کو 13 ارب، اور سکھر (سیپکو) کو 11 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔ دیگر اداروں میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (PBC) کو 3.39 ارب، ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان (TCP) کو 1.66 ارب، اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کو 1.68 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

گرانٹس کی تقسیم میں پاور ہولڈنگ کمپنی کو سب سے زیادہ 66.56 ارب روپے دیے گئے۔ اس کے بعد پاکستان ریلوے کو 26.60 ارب، واپڈا کو 13 ارب، پی ٹی سی ایل کو 4 ارب، گوادر پورٹ اتھارٹی کو 26 کروڑ، پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کو 3.8 کروڑ اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کو 3 ارب روپے کی گرانٹس دی گئیں۔

قرضوں کے طور پر 92 ارب روپے جاری کیے گئے جن میں نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی (NTDC) کو 51 ارب، این ایچ اے کو 32.49 ارب، جامشورو پاور کمپنی کو 3 ارب، آئیسکو کو 2.43 ارب، کیسکو کو 2.14 ارب، پیسکو کو 1.89 ارب، میپکو کو 60 کروڑ، اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو 50 لاکھ روپے فراہم کیے گئے۔

ایکویٹی کی صورت میں 77.49 ارب روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی، جس میں سے سب سے زیادہ 66 ارب روپے کیسکو کو دیے گئے۔ پیسکو کو 4.65 ارب، سیپکو کو 2.97 ارب، لیسکو کو 2 ارب، میپکو کو 97 کروڑ، فیسکو کو 92 کروڑ اور آئیسکو کو 15.5 کروڑ روپے دیے گئے۔

یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وفاقی حکومت اب بھی ان نقصان دہ اور غیر فعال سرکاری اداروں کو مسلسل مالی امداد فراہم کر رہی ہے، باوجود اس کے کہ متعدد حکومتیں ماضی میں ان اداروں کی نجکاری، اصلاحات اور تنظیمِ نو کے وعدے کر چکی ہیں۔ ماہرین معیشت خبردار کر رہے ہیں کہ توانائی کے شعبے میں موجود کارکردگی کے مسائل، گردشی قرضوں کی شدت، اور سبسڈی پر انحصار ملک کے مالیاتی وسائل کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اصلاحاتی عمل فوری طور پر شروع نہ کیا گیا تو یہ مالی بوجھ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ کو متاثر کرے گا اور پاکستان کی اقتصادی بحالی مزید مشکل ہو جائے گی۔

یہ رجحان نہ صرف مقامی ماہرین بلکہ عالمی مالیاتی اداروں کے لیے بھی باعثِ تشویش ہے، جو اصلاحات کے بغیر قرضوں اور مالی امداد کی فراہمی کو غیرپائیدار قرار دیتے ہیں

مقبول مضامین

مقبول مضامین