جمعرات, فروری 19, 2026
ہومنقطہ نظردنیا میں عادلانہ حکمرانی کے بغیر انصاف ممکن نہیں — غزہ اسکی...

دنیا میں عادلانہ حکمرانی کے بغیر انصاف ممکن نہیں — غزہ اسکی دلیل ہے
د

تحریر: علی بہادری جہرومی

آج کی دنیا ہماری نظروں کے سامنے ایک عدالت میں بدل چکی ہے — دعوؤں کی جانچ کا ایک ٹریبونل، نظاموں کے توازن کو جانچنے کی ترازو، اور ان اساسی ڈھانچوں کے درمیان تمیز کا میدان جو یا تو وحی الٰہی پر مبنی ہیں یا طاقت، مفاد اور نااہلی کی بنیاد پر کھڑے کیے گئے ہیں۔

ہر اُس بم کے ساتھ جو غزہ پر گرایا جاتا ہے، ہر اُس معصوم بچے کے ساتھ جو شہید ہوتا ہے، اور ہر اُس عورت کے ساتھ جو کسی بےبس اسپتال میں دم توڑ دیتی ہے، نہ صرف صہیونیت کا کریہہ چہرہ بے نقاب ہوتا ہے بلکہ عالمی سیاسی نظام کا بگڑا ہوا باطن بھی سامنے آجاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ظلم صرف افراد کا نتیجہ نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہ گمراہ کن نظریاتی انتخاب اور ناقص ساختہ نظاموں کی پیداوار ہے۔

جب سیاسی اور قانونی نظام اپنی اساس عقلِ خودساختہ، اقتدار پسندی اور مذہب کی عوامی زندگی سے بے دخلی پر قائم ہوں، تو اس کا لازمی نتیجہ نااہل افراد کی سربراہی میں ظہور پذیر ہوتا ہے — اور انجام وہی المیہ ہے جو آج غزہ میں اور وسیع تر اسلامی دنیا میں مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

جب کسی نظام کی قانونی حیثیت کا ماخذ الٰہی اقدار کے بجائے دولت، میڈیا یا عسکری قوت بن جائے، تو اس کا حاصل عدل نہیں بلکہ قتل عام، امتیاز اور انسانی ضمیر کی موت ہوتا ہے۔

جہاں حاکمیت کی جڑیں کتابِ خدا، الٰہی قانون اور صالح قیادت میں پیوست ہوں، وہاں سیاست انسان کی خدمت گزار ہوتی ہے۔ لیکن جہاں اس کی بنیاد نفس، نسل، سرمایہ یا طاقت پر رکھی جائے، وہاں یہی سیاست انسانیت کی دشمن بن جاتی ہے۔

آج غزہ اس حقیقت کی ناقابل تردید، ٹھوس اور زندہ شہادت بن چکا ہے۔ کیونکہ اس میدان میں صرف صہیونیت ہی نہیں، بلکہ اُن تمام عالمی اداروں اور نظریاتی ڈھانچوں کی بنیادیں بھی ایک ایک کر کے منہدم ہو چکی ہیں، جو خود کو انسانی حقوق، جمہوریت، انصاف اور عالمی نظم و نسق کے علَم بردار کہتے تھے۔

اقوام متحدہ، سلامتی کونسل، بین الاقوامی عدالتیں اور عالمی ذرائع ابلاغ — یا تو اس ظلم کے جواز میں مصروف ہیں، یا خاموش، یا بےعمل، یا صہیونی حکومت کے جاری نسل کشی کے منصوبے میں اس کے مغربی اتحادیوں کے ساتھ فعال شریک۔

یہ اخلاقی، قانونی اور سیاسی انہدام دنیا کے لیے فوری متبادل ڈھانچوں کی ضرورت کا اعلان ہے — ایسے نظام جو وقتی مفادات پر نہیں بلکہ انسانی فطرت اور الٰہی عقل پر مبنی ہوں۔

ان نئے ڈھانچوں کے مرکز میں وہ حکومتیں ہونی چاہئیں جو آزاد اور صالح افراد پر مشتمل ہوں — ایسی اقوام جو خدا پر ایمان، عدل پر یقین اور صالحین پر اعتماد کے رشتے میں بندھی ہوں۔

آج، ماضی کے کسی بھی وقت سے بڑھ کر، الٰہی حکمرانی کے نظریے کو عملی شکل دینے کی شدید ضرورت ہے — وہی تصور جو امام خمینی نے اسلامی انقلاب کی بنیاد میں رکھا، اور جسے شہید جنرل قاسم سلیمانی نے میدانِ عمل میں مجسم کیا۔

یہ اب صرف ایک نظریہ، عقیدہ یا عقلی تجویز نہیں رہا، بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے — ایک پوری نسل کا مشترکہ شعور اور مشترکہ درد۔

جو شخص آج بھی دینی حکمرانی کی ضرورت، امتِ واحدہ کے قیام، اور صالح قیادت کی مرکزیت پر شک کرتا ہے، وہ یا تو حقیقت سے غافل ہے یا فکری طور پر مفلوج۔

آج کوئی بھی باشعور ذہن ان جدید لیکن کھوکھلے نظاموں کو — جو صہیونی جرائم میں نہ صرف خاموش بلکہ شریک ہیں — عدل کا پیمانہ نہیں مان سکتا، جب تک وہ ضمیر اور فطرت دونوں سے منہ نہ موڑ چکا ہو۔

غزہ صرف ایک مظلوم نہیں، ایک گواہی ہے۔ ایک زندہ ثبوت کہ دنیا، اگر خدا کے بغیر ہو، مذہب کے بغیر ہو، اور صالح قیادت کے بغیر ہو، تو تباہی کی طرف جا رہی ہے۔

اور یہی وہ قطعی حجت ہے جو تمام علمی، سیاسی، میڈیا اور فکری طبقات کے سامنے ہے: اس منظرنامے کے سامنے اب صرف دو راستے بچے ہیں — حق کے ساتھ کھڑے ہونا یا خاموشی کی صورت میں بھی ظلم کا شریک بن جانا۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین