غزه (مشرق نامہ)– دنیا کے سب سے کم عمر سابق فلسطینی قیدی یوسف الزق اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے، جب صہیونی افواج نے وسطی غزہ کی الثورہ اسٹریٹ پر ان کے خاندان کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا۔
یوسف کی زندگی 2008 میں ایک اسرائیلی جیل میں اس وقت شروع ہوئی جب ان کی والدہ، فاطمہ الزق، اسیری کے دوران ماں بنیں۔
اس سے قبل، رہائی پانے والے فلسطینی قیدی عماد منصور بھی خان یونس کے علاقے المواسی میں بے گھر افراد کے کیمپ پر اسرائیلی فضائی حملے میں شہید کر دیے گئے۔
منگل کے روز، حماس نے ان چھ فلسطینی سابق قیدیوں کے قتل کی مذمت کی جنہیں اسرائیلی جیلوں سے رہائی کے بعد غزہ جلا وطن کیا گیا تھا۔ شہید قیدیوں میں ناجی عبیات، بلال زرعہ، محمود ابو سریعہ، امجد ابو عرقوب، ریاض اصلیہ، اور محمود الدحبور شامل تھے۔
یہ تمام افراد ان حملوں میں شہید ہوئے جو وسطی غزہ کے زوایدہ کیمپ اور خان یونس کے المواسی علاقے میں بے گھر افراد کے خیموں پر کیے گئے۔
حماس نے ان قتلوں کو "انتقامی اور سوچا سمجھا جرم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی مزاحمت کے علامتی چہروں کو ختم کرنے کی صہیونی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تنظیم کے مطابق یہ کارروائیاں اسرائیلی منصوبے کا حصہ ہیں جس میں جنگی کارروائیوں کی آڑ میں مزاحمتی قیادت کو چن چن کر شہید کیا جا رہا ہے، چاہے وہ غزہ ہو یا مغربی کنارے۔
انادولو ایجنسی کے مطابق، شہداء میں سے پانچ قیدیوں کو 2011 میں ہونے والے قیدیوں کے تبادلے کے تحت رہا کیا گیا تھا، جبکہ چھٹا فلسطینی 2002 میں چرچ آف نیٹیویٹی محاصرے کے بعد جلا وطن کیے گئے قیدیوں میں شامل تھا۔
حماس رہنما عبدالحکیم حنینی نے ان سابق قیدیوں کے قتل کو صہیونی ریاست کی اس حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جو اُن افراد کو نشانہ بناتی ہے جنہوں نے اسرائیلی جبر کے خلاف مزاحمت کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، اور زندہ واپس آئے۔
حنینی نے کہا کہ یہ ان لوگوں کے خلاف گہری صہیونی نفرت اور انتقامی پالیسی کا ثبوت ہے، جو ظلم کی کوٹھریوں سے گزر کر مزاحمت کی علامت بنے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ یہ قتل ہمارے عوام یا آزاد قیدیوں کو توڑ نہیں سکتے۔ ان کا خون مزاحمت کی آگ کو مزید بھڑکائے گا اور اس غاصب دشمن سے تصادم کو مزید گہرا کرے گا۔

