مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– علاقائی خودمختاری کے تحفظ اور فوجی کارروائیوں میں روس کی مکمل حمایت کا اعلان، کورسک ریجن میں مشترکہ کارروائی سمیت اسٹریٹجک اتحاد میں پیش رفت
جمہوری عوامی جمہوریہ کوریا (ڈی پی آر کے) نے روس کی علاقائی خودمختاری اور ریاستی سلامتی کے تحفظ کے لیے اس کی کوششوں کی غیر مشروط اور غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز وونسان میں روس اور ڈی پی آر کے کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کے دوسرے دور کے دوران شمالی کوریا کی وزیر خارجہ چوے سون ہوئی نے بین الاقوامی دباؤ کے مقابل روس کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ڈی پی آر کے حکومت کی اسٹریٹجک ترجیح اور پختہ ارادہ یہ ہے کہ وہ روس کی ریاستی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کی پالیسی کی غیر مشروط اور ناقابل تغیر حمایت کرے، یہ بات چوے نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک ’’استعماری قوتوں کی بالادستی پر مبنی سازشوں‘‘ کی مخالفت کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے اس نئے بین الریاستی مکالمے کے تمام نکات کو مخلصانہ طور پر نافذ کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور باہمی تعاون کو وسعت دینے کے لیے شمالی کوریا کی سنجیدہ کوششوں کو اجاگر کیا۔
چوے نے لاوروف کے دورہ کو روسی حکومت اور عوام کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک خیالات کے تبادلے کو مزید گہرا کرنے کی خواہش سے تعبیر کیا، اور کہا کہ شمالی کوریا اور روس کے درمیان تعلقات ’’ناقابل شکست تعاون‘‘ کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
دوسری جانب، روسی وزیر خارجہ لاوروف نے بھی مذاکرات کے دوران اس اتحاد کو ’’فوجی بھائی چارہ‘‘ قرار دیا اور کورسک ریجن میں شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ جنگی کارروائیوں میں شرکت کو اس اتحاد کا واضح ثبوت قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پہلے اسٹریٹجک مذاکرات میں آپ نے ہمارے نئے بنیادی اسٹریٹجک معاہدے کو ناقابل شکست فوجی بھائی چارے کی بنیاد قرار دیا تھا… جس میں کورین پیپلز آرمی کے بہادر سپاہیوں نے روسی فوجیوں کے ساتھ مل کر، خون اور جان کا نذرانہ دے کر، کورسک ریجن کو یوکرینی نازیوں سے آزاد کرانے میں مدد دی۔
کورسک ریجن میں شمالی کوریا کا فوجی کردار
روسی سرزمین کورسک ریجن میں ڈی پی آر کے کی فوجی کارروائی میں شرکت اس بڑھتے ہوئے اتحاد کا اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔ چوے نے شمالی کوریا کی مسلح افواج کی اس شرکت کو ’’ایک تاریخی واقعہ‘‘ قرار دیا جو ’’کورین-روسی تعاون کے نئے دور کا آغاز‘‘ ہے۔
اپریل میں، روسی جنرل اسٹاف کے سربراہ والری گراسیموف نے تصدیق کی تھی کہ کورین اسپیشل فورسز نے روسی افواج کے ساتھ مل کر کورسک ریجن میں جنگی کارروائیاں انجام دی تھیں اور یوکرینی افواج کو پسپا کرنے میں مدد دی تھی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ڈی پی آر کے کی قیادت اور فوج کا شکریہ ادا کیا تھا، اور کہا تھا کہ انہوں نے ’’عزت اور بہادری سے اپنے فرائض کی انجام دہی کی‘‘ اور یہ کہ روسی عوام ’’شمالی کوریا کی افواج کی اس قربانی کو کبھی نہیں بھولیں گے۔‘‘
علاوہ ازیں، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے بھی اس شرکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی دو طرفہ معاہدے کے آرٹیکل 4 کے تحت کی گئی تھی، جو اس تعاون کی قانونی حیثیت اور گہرائی کو واضح کرتا ہے۔
اسٹریٹجک معاہدہ: روس-شمالی کوریا دفاعی اتحاد کی مضبوطی
یاد رہے کہ جون 2024 میں روس اور ڈی پی آر کے نے ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایک دیباچے اور 23 دفعات پر مشتمل ہے، جس میں سیاسی، تجارتی، سرمایہ کاری اور سلامتی سے متعلق تعاون شامل ہے۔
معاہدے کی دفعہ 4 کے مطابق، اگر دونوں میں سے کسی ایک فریق پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو دوسرا فریق اقوام متحدہ کے چارٹر کی شق 51 کے تحت ہر ممکن فوجی اور دیگر مدد فراہم کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی، دفعہ 8 میں مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے میکانزم بیان کیے گئے ہیں، جن میں مربوط فوجی کارروائیاں شامل ہیں، تاکہ جنگ کی روک تھام اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

