جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیبرازیل–امریکا تجارتی تنازعہ: محصولات، الزامات اور عالمی اثرات

برازیل–امریکا تجارتی تنازعہ: محصولات، الزامات اور عالمی اثرات
ب

مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ) برازیلی صدر لوئیز اناسیو لولا ڈا سلوا نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برازیل پر 50 فیصد درآمدی محصولات عائد کیے تو ان کے ملک کی جانب سے بھی جوابی محصولات نافذ کیے جائیں گے۔

لولا نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ اگر امریکا کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو کانگریس سے منظور شدہ "قانونِ باہمی اقدام” کے تحت امریکا کی اشیاء پر مساوی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ "اگر وہ ہم پر پچاس فیصد لگائیں گے، تو ہم بھی ان پر پچاس فیصد لگائیں گے۔”

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ یکم اگست سے برازیلی درآمدات پر 50 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک خط بھی پوسٹ کیا جس میں برازیل پر "آزادانہ انتخابات پر حملوں” اور "امریکیوں کی آزادیٔ اظہار کو دبانے” کا الزام لگایا گیا۔

تجارتی حقیقت اور سیاسی مفادات

ٹرمپ نے اپنے خط میں برازیل کے ساتھ "ناقابلِ برداشت تجارتی خسارے” کا حوالہ دیا، تاہم برازیلی اعدادوشمار کے مطابق امریکا کو گزشتہ سال تقریباً 284 ملین ڈالر کا تجارتی فائدہ حاصل ہوا تھا۔ برازیلی وزیر خزانہ فرنینڈو ہداد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سالوں میں برازیل کا امریکا کے ساتھ تجارتی خسارہ 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ "سیاسی محرکات” پر مبنی ہے، نہ کہ اقتصادی منطق پر۔

امریکا، چین اور یورپی یونین کے بعد برازیل کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ امریکا برازیل سے خام تیل اور فولاد خریدتا ہے جبکہ برازیل امریکا سے انجن، مشینری اور ایندھن درآمد کرتا ہے۔

نئی منڈیوں کی تلاش

برازیلی وزیر زراعت کارلوس فاوارو نے کہا ہے کہ ان کا ملک متبادل تجارتی راستے تلاش کرے گا اور مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور گلوبل ساؤتھ کی منڈیوں سے روابط بڑھائے گا تاکہ امریکی مارکیٹ پر انحصار کم کیا جا سکے۔

سفارتی کشیدگی میں اضافہ

برازیلی وزارت خارجہ نے بدھ کے روز امریکا کے ناظم الامور کو طلب کر کے ٹرمپ کے خط کی صداقت جاننے کی کوشش کی۔ بعد ازاں، اس خط کو "توہین آمیز زبان اور حقائق کی غلط ترجمانی” قرار دیتے ہوئے باضابطہ طور پر واپس کر دیا گیا۔

نظریاتی کشمکش

تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا یہ فیصلہ معاشی سے زیادہ نظریاتی بنیادوں پر ہے۔ انہوں نے برازیل کی حکومت پر دائیں بازو کے سابق صدر بولسونارو کے خلاف "سیاسی انتقام” لینے کا الزام لگایا۔ بولسونارو اس وقت 2022 کے انتخابات کے بعد مبینہ طور پر اقتدار پر قبضے کی سازش کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔

ماہرِ سیاسیات لیونارڈو پاز کے مطابق، "ٹرمپ کا برازیل پر اچانک دھیان بولسونارو کے مقدمے کی پیش رفت اور ریپبلکن ارکان کی جانب سے وائٹ ہاؤس پر دباؤ کے باعث آیا ہے۔” اس کے علاوہ، ریو ڈی جنیرو میں ہونے والے حالیہ BRICS اجلاس کو امریکا میں "مغرب مخالف بیانیے” کا حصہ تصور کیا گیا، جس نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔

کافی اور سنترے کا جوس مہنگا ہونے کا خدشہ

ٹرمپ کے اعلان سے عالمی کافی منڈی میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔ برازیل دنیا کا سب سے بڑا کافی برآمد کنندہ ہے جبکہ امریکا اس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ اگر 50 فیصد ٹیکس یکم اگست سے لاگو ہوتا ہے تو نئی شپمنٹس رکنے کا خطرہ ہے، جس سے امریکا میں کافی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کیلیفورنیا کے کافی بروکر مائیکل نوگنٹ کے مطابق، "اس سطح کا ٹیکس برازیلی کافی کی امریکا آمد تقریباً بند کر دے گا۔ برازیلی برآمد کنندگان اسے برداشت نہیں کر سکتے اور امریکی کمپنیوں کے لیے یہ ناقابل قبول ہوگا۔”

صرف کافی ہی نہیں، بلکہ امریکا میں فروخت ہونے والے سنترے کا جوس بھی بیش از نصف حصہ برازیل سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے مجوزہ 50 فیصد درآمدی ٹیکس کے اعلان کے بعد جمعرات کو نیویارک مارکیٹ میں جوس کے نرخوں میں 6 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ مارکیٹ میں فراہمی میں ممکنہ کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین