واشنگٹن (مشرق نامہ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلی بار یوکرین کو براہ راست اسلحہ فراہم کرنے کے لیے اپنے صدارتی اختیارات استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رائٹرز نے جمعرات کے روز دو باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ دی ہے۔
اب تک ٹرمپ انتظامیہ نے صرف وہ ہتھیار فراہم کیے تھے جن کی منظوری سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں دی گئی تھی، تاہم صدارتی ڈرا ڈاؤن اتھارٹی (PDA) ٹرمپ کو ہنگامی صورتحال میں پینٹاگون کے اسلحہ ذخائر سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس نئے اسلحہ پیکج کی مالیت تقریباً 30 کروڑ ڈالر ہو سکتی ہے، جس میں پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے جارحانہ راکٹس شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پینٹاگون نے داخلی ذخائر کی کمی کے خدشات کے پیش نظر کچھ ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق جنگی امور کے وزیر پیٹ ہیگ سیٹھ، جو کہ یوکرین کو مزید امداد دینے کے ناقد رہے ہیں، نے یہ فیصلہ صدر ٹرمپ سے مشورہ کیے بغیر کیا۔
صدر ٹرمپ نے اس ہفتے کے اوائل میں اس بات کی تصدیق کی تھی کہ وہ یوکرین کو مزید ہتھیار فراہم کریں گے، جب کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ اسلحہ کی ترسیل کی عارضی معطلی کو "بدقسمتی سے غلط انداز میں پیش کیا گیا”۔
یاد رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے صدر بائیڈن کی یوکرین کو دی جانے والی غیر مشروط امداد پر تنقید کی تھی اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو "دنیا کا سب سے بڑا سیلزمین” قرار دیا تھا، جنہوں نے ڈیموکریٹس کو ہتھیاروں کی مسلسل ترسیل پر آمادہ کیا۔
جب کہ یوکرین کو روس کے خلاف اپنی پوزیشن برقرار رکھنے اور فوجی نفری کو بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، ایسے میں مغربی اسلحہ کی مسلسل فراہمی اس کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے — اگرچہ روس نے خبردار کیا ہے کہ غیر ملکی ہتھیار مغرب کو اس جنگ کا غیراعلانیہ فریق بنا رہے ہیں۔

