غزه (مشرق نامہ) جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں جمعرات کی شام ایک عمارت میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک اسرائیلی فوجی افسر ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجی علاقے میں کارروائی کر رہے تھے، جس کے بعد فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں اور قابض افواج کے درمیان شدید جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
’سنگین واقعہ‘، شدید جانی نقصان
اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کو ایک "سنگین اور دشوار” حادثہ قرار دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، دھماکے کے مقام پر زخمیوں کو نکالنے کے لیے ایک فوجی ہیلی کاپٹر بھیجا گیا۔
زخمیوں کی صحیح تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی رپورٹس میں اسرائیلی فوجیوں کے متعدد جانی نقصانات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
جمعے کی صبح اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ جنوبی غزہ میں شدید جھڑپوں کے دوران اس کا ایک افسر ہلاک ہوا، جو کہ ایلیٹ فرسٹ گولانی بریگیڈ کی پیٹرول بٹالین میں ٹیم لیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہا تھا۔
اس دوران، غزہ میں ایک اور ’سنگین واقعہ‘ پیش آیا، تاہم اس کی تفصیلات منظر عام پر نہیں آئیں۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق زخمی فوجیوں کو مقبوضہ فلسطین کے وسطی علاقے میں واقع رابین میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا گیا۔
جنگ میں اسرائیلی ہلاکتوں کی تعداد 890 ہو گئی
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے مطابق، غزہ پر جنگ کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 890 تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں سے 448 فوجی زمینی کارروائی کے دوران غزہ میں مارے گئے، جب کہ صرف مارچ میں آخری جنگ بندی کے بعد سے جاری جارحیت میں 40 اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
القسام اور القدس بریگیڈز کی جوابی کارروائیاں
حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ اس نے جنوبی غزہ کے مرکزی علاقے خان یونس میں دو اسرائیلی مرکافا ٹینکوں کو یاسین 105 اور ٹینڈم دھماکہ خیز مواد سے نشانہ بنایا۔
بریگیڈ نے خان یونس کے شمالی علاقے البداو میں دشمن کے فوجیوں اور فوجی گاڑیوں کے ایک اجتماع پر بھاری اور درمیانے درجے کے مارٹر گولوں سے بمباری بھی کی، جو کہ اسرائیلی پیش قدمی روکنے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
دریں اثناء، اسلامی جہاد کی عسکری شاخ القدس بریگیڈ نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے غزہ شہر کے مشرقی علاقے التُفاح میں ایک اسرائیلی فوجی گاڑی کو پہلے سے نصب اینٹی آرمر دھماکہ خیز مواد سے تباہ کر دیا۔ یہ کارروائی قابض افواج کی پیش قدمی کے دوران کی گئی۔

