اسلام آباد (مشرق نامہ) روسی نائب وزیرِاعظم الیگزی اوورچک نے پاکستان کو روس کا قدرتی اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کو معیشت اور توانائی کے شعبے میں خطے کی ترقی کا ایک اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے ماسکو میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی کی قیادت میں پاکستانی وفد سے ملاقات میں کہی۔
وفد میں معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی شامل تھے، جو پاکستان اسٹیل ملز منصوبے کے فوکل پرسن ہیں۔ ملاقات میں دوطرفہ سیاسی، تجارتی، اقتصادی، توانائی، صنعتی، زرعی اور خطے میں ربط سازی کے تمام شعبوں پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے سیاسی، تجارتی اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ طارق فاطمی نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور انہیں خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کو عالمی منظرنامے میں ایک "استحکام بخش قوت” کے طور پر دیکھتا ہے۔
نائب وزیراعظم اوورچک نے بتایا کہ صدر پیوٹن اگست کے آخر میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ ہارون اختر نے کراچی میں نئی اسٹیل ملز کے قیام سے متعلق جاری بات چیت کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کی علامت ہے اور مستقبل کے تعاون کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
اوورچک نے 1956 میں سوویت یونین کے وزیرِاعظم نیکولائی بولگنن کی جانب سے پاکستان کو پہلی اسٹیل ملز کے لیے تکنیکی تعاون کی پیشکش کا حوالہ بھی دیا۔ ملاقات میں پاکستان کی سرمایہ دوست صنعتی پالیسی پر بھی بات ہوئی، جو موجودہ حکومت کے تحت معاشی استحکام کا باعث بنی۔
روسی نائب وزیراعظم نے پاکستان میں 2024 میں اپنی دورہ جات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے رابطہ اور اگست 2025 میں پائلٹ کارگو ٹرین کا آغاز اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔
اس موقع پر جنوبی ایشیا، افغانستان، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور عالمی فورمز پر پاکستان و روس کے تعاون پر بھی گفتگو ہوئی۔ نائب وزیراعظم اوورچک نے پاکستانی وفد کی آمد کو سراہتے ہوئے کہا کہ صدر پیوٹن پاکستان کے ساتھ تمام اہم شعبوں میں مزید گہرے تعاون کے خواہاں ہیں۔

