کوالالمپور (مشرق نامہ) ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتیر محمد نے اپنی 100ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تفصیلی انٹرویو میں موجودہ عالمی سیاست، تہذیبی زوال، جمہوریت، فلسطین کے مسئلے اور مسلم دنیا کی ناکامیوں پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے غزہ پر اسرائیل کے جاری حملوں کو "نسل کشی” قرار دیتے ہوئے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو اس ظلم کا سہولت کار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر دنیا میں انصاف ہوتا تو ایسی نسل کشی کو فوراً روکا جاتا، لیکن جب اس کے پیچھے امریکہ جیسی طاقت ہو، تو اسے روکنا ناممکن بن جاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ امریکہ انسانی حقوق اور انسانی جانوں کی پروا نہیں کرتا، اور اس کی پالیسیوں نے اسے دنیا کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت سے گرا دیا ہے۔ مہاتیر کے مطابق، یہ مغربی تہذیب کی مکمل اخلاقی اور انسانی ناکامی ہے۔
مہاتیر محمد، جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ سیاست اور عوامی خدمت میں گزارا، نے جمہوریت کے موجودہ ماڈل پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت انسان کی ایجاد ہے، اور یہ اس وقت ہی کارگر ثابت ہو سکتی ہے جب اس کا درست استعمال کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کثیرالجماعتی نظام حکومت سازی کو کمزور بناتا ہے کیونکہ ہر کوئی قیادت چاہتا ہے اور نتیجتاً اکثریت حاصل نہیں ہو پاتی۔ ان کے مطابق، ایک مؤثر جمہوریت کے لیے صرف دو جماعتوں کا نظام ہونا چاہیے تاکہ ایک واضح اکثریت سے مضبوط حکومت قائم ہو سکے۔
اپنی گفتگو میں انہوں نے مسلم دنیا کی تقسیم اور کمزوری پر بھی افسوس کا اظہار کیا، خاص طور پر فلسطین کے معاملے پر۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) اس لیے ناکام ہے کہ اس کا ہر فیصلہ مکمل اتفاقِ رائے پر منحصر ہوتا ہے، اور جب ایک بھی ملک اختلاف کرے تو کچھ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ او آئی سی اسرائیل کے خلاف کوئی مؤثر اقدام نہیں کر سکی۔
مہاتیر محمد، جو 1925 میں پیدا ہوئے اور 1981 سے 2003 تک پہلی بار، پھر 2018 سے 2020 تک دوبارہ وزیر اعظم رہے، نے کہا کہ انہوں نے سیاست میں آنے سے پہلے ایک ڈاکٹر کے طور پر کام کیا، لیکن قوم کی خدمت کا جذبہ انہیں سیاست میں لے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی وزیر اعظم بننے کا خواب نہیں دیکھا تھا، لیکن وقت اور حالات نے انہیں یہ موقع دیا۔ انہوں نے ملک کی معاشی ترقی کے لیے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنایا اور خوش قسمتی سے اس میں کامیاب بھی ہوئے۔
اپنی صحت اور طویل العمری کا راز بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر متحرک رہتے ہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی خود کو مصروف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ باقاعدگی سے پڑھتے، لکھتے اور مباحثے کرتے ہیں، تاکہ ذہن تازہ اور فعال رہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ ستی حسماہ کی بھرپور حمایت کو اپنی کامیابی کا اہم جزو قرار دیا اور کہا کہ وہ صرف بیوی نہیں بلکہ ایک سچی دوست اور ہمسفر ہیں۔
مہاتیر نے کہا کہ اگر قوم ترقی کرنا چاہتی ہے تو اسے سیاسی استحکام، معاشی نظم و نسق، اور بہتر تعلیم پر توجہ دینی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا جیسے متنوع ملک میں قیادت کو تمام نسلوں اور ثقافتوں کی ضروریات کو سمجھ کر پالیسی سازی کرنی چاہیے۔ اپنے سیاسی کیریئر پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کارناموں کا فیصلہ دوسروں پر چھوڑتے ہیں، لیکن ملک کی خدمت ان کے لیے سب سے زیادہ تسلی بخش تجربہ رہا۔
ان کا انٹرویو ایک تجربہ کار، دوراندیش اور بے باک عالمی رہنما کی بصیرت کا مظہر ہے، جو موجودہ دنیا کی اخلاقی پستی اور انسانی بے حسی پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ ان کے مطابق، جدید تہذیب اپنی اقدار سے دور ہو کر دوبارہ بدویت کی طرف لوٹ رہی ہے، اور اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو انسانیت ایک گہرے بحران میں ڈوب سکتی ہے۔

