باجوڑ (مشرق نامہ) عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی رہنماء مولانا خان زیب جمعرات کو اس وقت جاں بحق ہو گئے جب موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ حملے میں ایک پولیس اہلکار بھی شہید ہوا، جب کہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔ واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے شندئی موڑ میں اس وقت پیش آیا جب مولانا خان زیب 13 جولائی کو ہونے والی امن ریلی کے لیے مہم چلا رہے تھے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقاص رفیق کے مطابق، یہ ایک ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ تھا جس کی تحقیقات جاری ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ مولانا خان زیب اے این پی کی مرکزی کابینہ اور علما ونگ کے سیکریٹری تھے۔
اے این پی کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر ریاست کے خلاف درج کروائی جائے گی، کیونکہ ریاستی اداروں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر مولانا خان زیب کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا: "دل ٹوٹ گیا ہے۔”
اے این پی خیبرپختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے واقعے کو پشتون شعور اور امن پر حملہ قرار دیتے ہوئے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران تمام سرگرمیاں معطل رہیں گی اور پارٹی دفاتر پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا عزم ظاہر کیا۔ محسن نقوی نے مولانا خان زیب کی شہادت پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور کہا کہ بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنانے والے درندے ہیں اور کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
ادھر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قبائلی امور و رکن قومی اسمبلی مبارک زیب خان نے باجوڑ میں سیکیورٹی صورتحال پر بریگیڈیئر سعد اور ڈپٹی کمشنر شاہد علی کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ انہوں نے حالیہ دہشت گرد حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی۔ بریگیڈیئر سعد نے یقین دہانی کرائی کہ سیکیورٹی فورسز جلد باجوڑ میں امن بحال کریں گی۔
یاد رہے کہ باجوڑ میں رواں سال سیاستدانوں پر حملے بڑھ گئے ہیں۔ مئی اور جون میں رکن قومی اسمبلی مبارک زیب خان کے گھر پر بھی دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں، جن میں خوش قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔

