اسلام آباد(مشرق نامہ): جمعرات کو پاکستان اور روس کے اعلیٰ سفارتی نمائندوں کے درمیان کوالالمپور اور ماسکو میں اہم ملاقاتیں ہوئیں، جن میں معیشت اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر زور دیا گیا۔ روسی نائب وزیرِاعظم الیکسی اوورچک نے دونوں ممالک کو "قدرتی اتحادی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس معیشت اور توانائی کے شعبوں میں اسٹریٹجک شراکت دار ہیں، جبکہ پاکستان نے روس کو عالمی منظرنامے میں استحکام کا عنصر قرار دیا۔
ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے 32ویں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر کوالالمپور میں اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی وزرائے خارجہ کونسل کے آئندہ اجلاس میں دوبارہ ملاقات پر اتفاق کیا۔
دریں اثناء وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور سید طارق فاطمی نے ماسکو میں روسی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے ہمراہ معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان بھی تھے، جو پاکستان اسٹیل ملز منصوبے کے فوکل پرسن ہیں۔ ملاقات میں کراچی میں نئی اسٹیل مل کے قیام، توانائی کے شعبے میں تعاون، اور خطے میں ریل رابطوں جیسے منصوبوں پر گفتگو ہوئی۔ ماسکو میں طارق فاطمی اور روس کے پہلے نائب وزیر توانائی پاویل سوروکن کی ملاقات میں جاری توانائی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور اس شعبے میں مزید وسعت پر زور دیا گیا۔
پاول سوروکن نے پاکستان میں اپنی فروری کی کامیاب ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی، پن بجلی، ایل پی جی، اور آئل ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن جیسے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ رواں سال اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان-روس بین الحکومتی کمیشن (IGC) کے دسویں اجلاس میں توانائی کا موضوع اہم ایجنڈا ہوگا۔
روسی نائب وزیراعظم اوورچک نے پاکستان کے وفد سے ملاقات میں کہا کہ صدر پیوٹن پاکستان کو خطے میں معیشت اور توانائی کی ترقی کا اہم شراکت دار سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ازبکستان، پاکستان اور روس کے درمیان ریلوے رابطے اور اگست 2025 میں پائلٹ کارگو ٹرین کے آغاز جیسے منصوبوں کی اہمیت پر زور دیا۔
ہارون اختر نے کراچی میں نئی اسٹیل مل کے قیام کو پاکستان اور روس کے دیرینہ تعلقات کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مستقبل میں باہمی تعاون کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔ واضح رہے کہ 13 مئی کو پاکستان اور روس کے درمیان اس منصوبے کے قیام کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔

