اسلام آباد(مشرق نامہ): وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے بتایا ہے کہ مالی سال 2023-24 میں سرکاری بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے نقصانات 591 ارب روپے سے کم ہو کر 2024-25 میں 399 ارب روپے رہ گئے ہیں، جس سے قومی خزانے کو 192 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اسے انہوں نے توانائی اصلاحات کی ایک “تاریخی کامیابی” قرار دیا۔
پریس کانفرنس میں اویس لغاری نے بتایا کہ یہ بچت بجلی چوری کی روک تھام، گورننس میں بہتری اور ریکوری ریٹ بڑھانے جیسے اقدامات کے باعث ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی ریکوری 92.4 فیصد سے بڑھ کر 96.4 فیصد ہو گئی، جبکہ 315 ارب روپے کے بل اب بھی واجب الادا ہیں۔ صرف لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی نے 60 ارب روپے کے نقصانات کم کیے۔
انہوں نے بتایا کہ بجلی چوری میں 11 ارب روپے کی کمی آئی، اور اصلاحات میں ڈسکوز کے بورڈز میں میرٹ پر تقرریوں اور پاور ڈویژن کی مداخلت کم کرنے کا اہم کردار رہا۔ تاہم سندھ کی کمپنیوں میں قانونی رکاوٹوں کے باعث بہتری کا عمل سست رہا۔
اویس لغاری نے یہ بھی بتایا کہ آزاد پاور پروڈیوسرز (IPPs) سے معاہدوں میں ترامیم سے ملک کو اب تک تقریباً 4 ہزار ارب روپے کی بچت ہوئی ہے، اور کچھ معاہدوں پر بات چیت جاری ہے۔ کراچی کے لیے انہوں نے اعلان کیا کہ کے-الیکٹرک کو نیشنل گرڈ سے مزید 400 میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی، لیکن یہ یکساں ٹیرف کے نفاذ سے مشروط ہو گا۔
شمسی توانائی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی کا عندیہ دیا، اور کہا کہ موجودہ نظام چند افراد کو فائدہ دے رہا ہے جبکہ عام صارف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ نئی پالیسی دو ہفتوں میں کابینہ میں پیش کی جائے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وفاقی حکومت بجلی بلوں سے پی ٹی وی فیس ختم کر چکی ہے اور صوبائی حکومتوں کو بجلی ڈیوٹی ختم کرنے کے لیے خطوط بھیجے ہیں، تاہم اب تک صرف ایک وزیر اعلیٰ کا جواب موصول ہوا ہے۔ بقیہ جوابات کے بعد معاملہ وزیر اعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

