جمعرات, فروری 19, 2026
ہومپاکستانکوئٹہ سے لاہور جانیوالی بس سے 9 مسافر اغواء کے بعد قتل

کوئٹہ سے لاہور جانیوالی بس سے 9 مسافر اغواء کے بعد قتل
ک

کوئٹہ (مشرق نامہ) کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس سے اغوا کیے گئے کم از کم نو افراد کو قتل کر دیا گیا، جس کی تصدیق حکام نے جمعہ کے روز کی۔ یہ واقعہ بلوچستان کے شمالی ضلع ژوب کے قریب پیش آیا جہاں مسلح افراد نے بس کو روک کر مسافروں کو اتارا، شناخت کی بنیاد پر نو افراد کو چُن کر ساتھ لے گئے اور بعد میں فائرنگ کر کے قتل کر دیا۔ ژوب کے اسسٹنٹ کمشنر نوید عالم کے مطابق مقتولین کی لاشیں بلوچستان کے ضلع بارکھان کے رکنی اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے اس بزدلانہ حملے کو "دہشت گردی کا واقعہ” قرار دیا اور کہا کہ یہ "فتنہءِ ہندستان” سے منسلک عناصر کی کارستانی ہے جنہوں نے پاکستانی شناخت کی بنیاد پر معصوم لوگوں کو بے دردی سے قتل کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی کارروائی کی، تاہم حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے، اور ان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ کمشنر ڈی جی خان اشفاق احمد کے مطابق لاشوں کو واپس پنجاب منتقل کرنے کے لیے پانچ ایمبولینسز روانہ کی گئی ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ معصوم افراد کے خون کا حساب لیا جائے گا اور دہشت گردوں کے خلاف پوری طاقت سے کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد، عزم اور طاقت سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سر فراز بگٹی نے بھی واقعے کو "کھلی دہشت گردی” قرار دیا اور کہا کہ معصوم شہریوں کو ان کی پاکستانی شناخت کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا، جو ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فتنہءِ ہندستان سے جڑے تمام دہشت گرد نیٹ ورکس کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔

ترجمان حکومت بلوچستان کے مطابق یہ حملہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں بلکہ بھارتی حمایت یافتہ گروپوں کی جاری کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ اسی روز مستونگ، قلات اور ساردگئی میں بھی حملے ہوئے جنہیں سیکیورٹی فورسز نے کامیابی سے ناکام بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے بسوں کی سیکیورٹی کے لیے ایس او پیز بنائے ہیں اور رات کے وقت سفر پر پابندی ہے، تاہم متاثرہ بس نے غروب آفتاب کے وقت اجازت کے تحت سفر کیا تھا۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی میں موجود خامیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ واقعے کے مقام کے لیے کوئی مخصوص سیکیورٹی الرٹ جاری نہیں تھا، حالانکہ دیگر علاقوں میں خطرے کی اطلاع پر اقدامات کیے گئے تھے۔

بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروپ خاص طور پر اس وقت سے سرگرم ہیں جب حالیہ جنگ میں انہیں پاکستان کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ پاک فوج کی قیادت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان بھارتی پشت پناہی والے نیٹ ورکس کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔ دریں اثنا، اسلام آباد کے تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی رپورٹ کے مطابق، مئی میں ملک بھر میں 85 عسکریت پسند حملے ہوئے جن میں 113 افراد جاں بحق اور 182 زخمی ہوئے۔ ان حملوں میں سب سے زیادہ متاثرہ صوبے بلوچستان اور خیبرپختونخوا رہے، جہاں مجموعی طور پر 82 حملے ریکارڈ کیے گئے۔ بلوچستان میں ہونے والے 35 حملوں میں 51 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 30 عام شہری، 18 سیکیورٹی اہلکار اور 3 دہشت گرد شامل تھے۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر شدت پسندی پر قابو پایا جا رہا ہے، مگر کچھ خطرناک رجحانات اب بھی برقرار ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین