جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیاسرائیلی وزیر بن گویر غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے میں کوشاں

اسرائیلی وزیر بن گویر غزہ سے فلسطینیوں کو نکالنے میں کوشاں
ا

مقبوضہ فلسطين (مشرق نامہ): اسرائیل کے انتہاپسند وزیرِ قومی سلامتی اتمار بن گویر نے فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کے مطالبے کو ایک بار پھر دہرایا ہے، اور حالیہ حملوں کا الزام اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد اور مذاکرات پر عائد کیا ہے۔

بن گویر نے ایک بیان میں کہا کہ "جب آپ دہشت گردوں کی رہائی کے لیے دہشت گرد تنظیم سے مذاکرات کرتے ہیں، اور ساتھ ہی غزہ میں انسانی امداد کے ذریعے حماس کو زندگی بخشتے ہیں، تو نتائج یہی ہوتے ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ "ہم نے یہ آج گوش ایزیون میں دیکھا، ہم نے فوجیوں کے اغوا کی کوشش میں دیکھا، ہم نے دہشت گردی میں اضافے کی صورت میں دیکھا۔ اس لیے میں وزیر اعظم سے مخاطب ہوں اور ان سے صرف ایک بات کہتا ہوں ‘وزیر اعظم! ان سے مذاکرات ممنوع ہیں؛ راستہ صرف ایک ہے – کچلنا، قبضہ کرنا، اور رضاکارانہ ہجرت کی حوصلہ افزائی کرنا۔ صرف اسی طرح ہم دہشت گردی کو شکست دے سکتے ہیں۔”

اگرچہ بن گویر اسے "رضاکارانہ ہجرت” قرار دے رہے ہیں، لیکن بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں ناقابل برداشت حالات پیدا کر کے فلسطینیوں کو نکلنے پر مجبور کرنا نسلی تطہیر (ethnic cleansing) کے زمرے میں آتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین