واشنگٹن (مشرق نامہ)– امریکہ نے فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ، فرانچیسکا البانیز، پر اسرائیلی مظالم اور واشنگٹن کی مسلسل حمایت کو بے نقاب کرنے کے جرم میں پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ، مارکو روبیو، نے بدھ کے روز ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں اعلان کیا کہ انہوں نے البانیز کے خلاف تادیبی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ روبیو نے الزام لگایا کہ البانیز نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کو اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی تھی۔
واضح رہے کہ یہ وارنٹ گزشتہ سال نومبر میں جاری کیے گئے تھے، جب کہ غزہ میں اسرائیل کے خلاف جاری نسل کش جنگ میں امریکہ کی بھرپور حمایت جاری تھی۔ البانیز نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو ایک اہم رپورٹ پیش کی تھی، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں فلسطینی قوم کو بطور گروہ منظم انداز میں مٹانے کے ارادے کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔ ان مظالم کو انہوں نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے تحت نسل کشی قرار دیا تھا۔
وارنٹ جاری ہونے سے قبل البانیز نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ اقوام متحدہ اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے پر غور کرے۔ وہ اپنی کئی رپورٹس میں اسرائیلی کارروائیوں کو "جدید تاریخ کی سب سے بے رحم نسل کشیوں میں سے ایک” قرار دے چکی ہیں اور غزہ کو اسرائیلی ہتھیاروں کی تجربہ گاہ یعنی "لیبارٹری” بھی کہا تھا۔
گزشتہ ماہ ایک اجلاس کے دوران البانیز نے اسرائیل کے ریاستی و کارپوریٹ حامیوں پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی، اقتصادی پابندیاں اور سرمایہ کاری کے خاتمے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے متعدد بڑی کمپنیوں، جن میں لاک ہیڈ مارٹن، پیلنٹیر، کیٹرپلر، وولوو، بی این پی پریباس، بارکلیز، پیمکو اور وینگارڈ شامل ہیں، کو نسل کش معیشت کا حصہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
روبیو نے مزید دعویٰ کیا کہ البانیز امریکی حکام اور کمپنیوں کے خلاف بھی عدالتی کارروائی کی کوششوں میں مصروف رہی ہیں، اور ان کوششوں کو "غیر قانونی اور شرمناک” قرار دیا۔
انہوں نے کہا، "البانیز کی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سیاسی و اقتصادی جنگ کی مہم مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔”
اس کے برعکس، امریکی حکام نے ایک بار پھر اسرائیل کے نام نہاد "حقِ دفاع” کی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اب تک اسرائیل کو اربوں ڈالر کی عسکری امداد فراہم کر چکا ہے، جو غزہ میں جاری نسل کشی کی پشت پناہی کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، جس میں اب تک تقریباً 57,700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے۔
امریکہ نے اقوام متحدہ میں اسرائیل کے خلاف کسی بھی تادیبی کارروائی کو روک کر، سیاسی سطح پر بھی اس نسل کشی کو مسلسل تحفظ فراہم کیا ہے۔

