مانیٹرنگ ڈیسک (مشرق نامہ)– آسٹریلوی حکومت ایک ایسے وسیع تر قانونی منصوبے کا جائزہ لے رہی ہے، جس کا مقصد حکومت کے نزدیک "یہود دشمنی” کا مقابلہ کرنا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ علمی آزادی، فنکارانہ اظہار، آن لائن گفتگو اور فلسطین سے متعلق سیاسی اظہار کو شدید طور پر محدود کر سکتا ہے۔
یہ سفارشات آسٹریلیا کی حکومت کی جانب سے یہود دشمنی سے نمٹنے کے لیے مقرر کردہ خصوصی ایلچی، جِلیان سیگل نے پیش کی ہیں، جن میں فنڈنگ میں کٹوتی، قانونی سزائیں، اور افراد و اداروں کی ملک بدری جیسے اقدامات شامل ہیں، جو "یہود دشمنی پھیلانے” کے الزام میں نشانہ بن سکتے ہیں۔
اگرچہ وزیر اعظم انتھونی البانیز نے اس منصوبے کی مکمل توثیق نہیں کی، تاہم انہوں نے جمعرات کو ایک تقریب کے دوران اس کی کئی کلیدی شقوں کی حمایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں یہود دشمنی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حالیہ دنوں میں ہماری سڑکوں پر جو نفرت اور تشدد دیکھا گیا وہ قابل نفرت ہے اور ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔
’غیر تعاون پر اداروں کو سزا‘ کی تجویز
سیگل کی نو ماہ پر مشتمل رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہود دشمنی آسٹریلوی جامعات، فنون لطیفہ کے اداروں، اور آن لائن پلیٹ فارمز میں "سرایت” کر چکی ہے اور اسے معمول کا حصہ بنا دیا گیا ہے”۔ رپورٹ میں ایسے اداروں کے خلاف سزا کے اقدامات کی سفارش کی گئی ہے جو یہود دشمنی کے واقعات پر خاطر خواہ ردعمل نہیں دیتے، جن میں یونیورسٹیوں کی وفاقی فنڈنگ کی معطلی اور اساتذہ یا فنکاروں کو دی گئی گرانٹس کی منسوخی شامل ہے۔
سب سے متنازعہ تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ تمام سطحوں کی حکومتیں انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرنس الائنس (IHRA) کی تیار کردہ یہود دشمنی کی ورکنگ ڈیفینیشن کو اپنا لیں، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی مدد سے "اسرائیل” پر تنقید کو نفرت انگیز تقریر سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ تعریف عالمی سطح پر انسانی حقوق کے علمبرداروں اور فلسطینی یکجہتی گروہوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے۔
سیگل کا کہنا ہے کہ ان کی سفارشات "قوانین، کلاس رومز، جامعات، میڈیا، کام کی جگہوں، آن لائن پلیٹ فارمز اور عوامی اداروں” میں یہود دشمنی کا احاطہ کرتی ہیں۔
ملک بدری، آن لائن نگرانی، اور مصنوعی ذہانت کی سینسرشپ
اس منصوبے کی چند انتہائی سخت سفارشات میں یہ شامل ہے کہ حکام کو ایسے غیر ملکی افراد کو ملک بدر کرنے کا اختیار دیا جائے جو مبینہ طور پر یہود دشمنی پر مبنی اظہار کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن پلیٹ فارمز اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی مواد کی نگرانی کے نظام کو مزید سخت بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے، تاکہ ایسی ٹیکنالوجیز کو کنٹرول کیا جا سکے جو "یہود دشمن مواد کو بڑھاوا دیتی ہیں”۔
رپورٹ میں ان صارفین کی شناخت کو محدود کرنے کی سفارش کی گئی ہے جن پر نفرت پھیلانے کا شبہ ہو، اور eSafety کمشنر کے ساتھ تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل نفرت انگیزی پر سخت کنٹرول کی بات کی گئی ہے۔ ساتھ ہی "قابل اعتماد آوازوں” کو بروئے کار لا کر یہود دشمن بیانیوں کا رد کرنے اور میڈیا کی نگرانی بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی خبروں میں "غلط یا مسخ شدہ” اطلاعات کو روکنے کے لیے۔
اگرچہ سیگل نے کسی مخصوص میڈیا ادارے کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے Sky News کو بتایا کہ مشرق وسطیٰ کی رپورٹنگ میں "توازن اور انصاف” کا مظاہرہ ہونا چاہیے اور ایسی خبریں دی جائیں جو "یہودی زندگی کی شادابی کو فروغ دیں”۔
سیاسی ردعمل: قومی تقسیم کا عکس
اس منصوبے کو دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے، تاہم بعض سیاسی رہنماؤں نے اس کے دور رس اثرات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حزب اختلاف کی رہنما سسَن لے نے البانیز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ مزید سخت اقدامات کیوں نہیں اٹھا رہے، جبکہ شیڈو ہوم افیئرز وزیر اینڈریو ہیسٹی نے اس رپورٹ کی توثیق کرتے ہوئے اسے "پورے حکومتی ردعمل کا تقاضا” قرار دیا۔
آزاد رکنِ پارلیمان الیگرا اسپینڈر نے بھی ان تجاویز کی حمایت کی اور ان پر فوری عمل درآمد پر زور دیا۔
دوسری جانب گرینز پارٹی کے سینیٹر ڈیوڈ شوبریج نے خبردار کیا کہ یہود دشمنی کے نام پر ایسی قانون سازی کو رائے دبانے یا "اسرائیل” کو تنقید سے بچانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ جائز تنقید کو یہود دشمنی قرار دینا نہایت توہین آمیز اور غلط ہے۔ ہمیں نسلی تعصب اور تقسیم کا مقابلہ کھلے دل سے کرنا چاہیے، نہ کہ قوموں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا۔
تنقید: فلسطینی حمایت اور علمی آزادی کو نشانہ بنانے کا اندیشہ
شہری آزادیوں کے حامی حلقے اس منصوبے کے تعلیمی اداروں پر ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر اس تجویز پر کہ جامعات پر "رپورٹ کارڈ” لاگو کیا جائے گا جس کی بنیاد پر یہ طے ہو گا کہ وہ یہود دشمنی کے خلاف کتنے موثر ہیں۔
ناکافی ردعمل کی صورت میں فنڈنگ میں کٹوتی کا امکان ہے، جس سے تعلیمی اداروں میں خود سنسرشپ کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
فنون لطیفہ کی دنیا بھی اس رپورٹ کے نشانے پر ہے، جس میں ایسے فنکاروں یا اداروں کی گرانٹس واپس لینے کی سفارش کی گئی ہے جو "یہود دشمن بیانیے” کو فروغ دیتے ہیں— اور ناقدین کے بقول، اس کی زد میں فلسطینی یکجہتی پر مبنی سیاسی اظہار بھی آ سکتا ہے۔
سیگل کی رپورٹ میں نفرت انگیز جرائم کے قوانین کو وسعت دینے اور اسکولوں میں یہود دشمنی سے متعلق تعلیم بڑھانے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں نوجوان آسٹریلوی باشندوں میں "اسرائیل” پر بڑھتی ہوئی تنقید کو "غلط معلومات اور نسلی تفریق” کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ سیگل کے دفتر کے مطابق اندرونی سروے میں سامنے آیا کہ 35 سال سے کم عمر آسٹریلوی باشندے فلسطین کے زیادہ حامی ہیں، جس کی وجہ میڈیا کی بدلتی کھپت اور ہولوکاسٹ تعلیم پر کم توجہ کو بتایا گیا ہے۔
اگرچہ حکومت نے رپورٹ کو "خوش آئند” قرار دیا ہے، تاہم کہا گیا ہے کہ باقاعدہ ردعمل مکمل جائزے کے بعد ہی دیا جائے گا۔
جبکہ عوامی سطح پر بحث جاری ہے، ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ IHRA کی تعریف کو اپنانا اور سیگل کی تجاویز پر عمل درآمد طلبہ، صحافیوں اور فنکاروں کے لیے فلسطینی حقوق کی حمایت میں اظہار رائے کو سخت متاثر کر سکتا ہے۔

