یمن/مقبوضہ فلسطين ( مشرق نامہ)–
یمنی مسلح افواج نے قابض صیہونی حکومت کے سب سے بڑے ہوائی اڈے بن گوریون ایئرپورٹ (جو لِد ایئرپورٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) پر ایک ذوالفقار بیلسٹک میزائل فائر کرکے ایئر ٹریفک کو معطل کر دیا۔
یمنی افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے جمعرات کو جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی مکمل طور پر کامیاب رہی، جس کے نتیجے میں تین سو سے زائد صیہونی شہروں اور قصبوں میں خطرے کے سائرن بجنے لگے اور لاکھوں صیہونی پناہ گاہوں کی طرف دوڑنے پر مجبور ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی عسکری کارروائیوں کو وسعت دینے کے لیے کوشاں ہیں اور جب تک غزہ پر حملے بند نہیں کیے جاتے، بحری ناکہ بندی جاری رکھیں گے۔
القدس و تل ابیب میں خطرے کے سائرن
جمعرات کی صبح یمن سے داغے گئے میزائل کے بعد مقبوضہ القدس اور تل ابیب میں خطرے کے سائرن بجنے لگے، جبکہ بن گوریون ایئرپورٹ پر تمام فضائی آمدورفت بند کر دی گئی۔
صیہونی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق، یمن سے میزائل داغے جانے کے بعد لاکھوں صیہونی شہری پناہ گاہوں کی طرف بھاگے۔
بحری ناکہ بندی: ’ایٹرنٹی سی‘ جہاز غرق
یمنی مسلح افواج نے غزہ پر صیہونی جارحیت کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی کے تسلسل میں ’ایٹرنٹی سی‘ نامی جہاز کو بھی نشانہ بنایا جو مقبوضہ فلسطینی بندرگاہ ام الرشراش کی طرف جا رہا تھا۔
یہ جہاز مکمل طور پر غرق ہو چکا ہے، اور یمنی فوج کی سرکاری میڈیا نے اس کارروائی کی ویڈیو بھی جاری کی ہے۔
ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ یمنی بحری افواج نے جہاز کے کال سائن D5DC2 پر عملے سے بارہا رابطہ کیا، انہیں یقین دہانی کروائی گئی کہ ریسکیو کشتیاں روانہ کی جا چکی ہیں اور ایک اور جہاز ’باریون‘ بھی عملے کی مدد کے لیے دستیاب ہے۔
یمنی حکام کا کہنا تھا کہ یہ رابطہ عملے کو محفوظ انخلاء کی یقین دہانی دلانے اور ممکنہ نقصان سے بچانے کے لیے کیا گیا۔
چند دنوں میں دوسرا جہاز تباہ
یہ کارروائی چند دنوں کے اندر دوسرا حملہ ہے۔ اس سے قبل یمنی افواج نے بحر احمر میں ’میجک سیز‘ جہاز کو نشانہ بنایا تھا، جس پر دو ڈرون کشتیاں، پانچ بیلسٹک و کروز میزائل، اور تین ڈرونز داغے گئے۔
یہ حملہ براہ راست جہاز کو لگا اور مکمل طور پر غرق کر دیا گیا۔

