واشنگٹن – (مشرق نامہ): امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ایک نئی آڈیو جاری کی ہے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ کو واضح الفاظ میں دھمکی دی تھی کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا یا چین نے تائیوان پر چڑھائی کی، تو وہ ماسکو یا بیجنگ پر بمباری کریں گے۔
یہ گفتگو ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ کے دوران کی، جس میں انہوں نے روس اور چین کے رہنماؤں کے ساتھ اپنے مبینہ مکالمات کا ذکر کیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نے پیوٹن سے کہا: اگر تم یوکرین میں داخل ہوئے، تو میں ماسکو پر بمباری کر دوں گا۔ میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں ہوگا۔ تو وہ کہتا ہے کہ ‘مجھے یقین نہیں آتا۔’ پھر میں نے کہا: ‘آئے گا!’ اس نے پھر کہا کہ ‘نہیں آتا!’ لیکن سچ یہ ہے کہ اسے 10 فیصد یقین تھا۔ میں نے پہلے بھی بتایا ہے، اسے 10 فیصد یقین ضرور تھا ـ
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے چینی صدر سے بھی یہی لب و لہجہ اختیار کیا٬ انہوں نے کہا کہ جب میں صدر شی کے ساتھ تھا، میں نے ان سے بھی یہی کہا کہ اگر تم نے تائیوان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو میں بیجنگ پر بمباری کر دوں گا۔ وہ سمجھا میں پاگل ہوں۔
غیر متوقع امریکی طاقت کا مظاہرہ یا بے یقینی؟
یہ آڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان فون پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ وہ یوکرین کی صورتحال سے خوش نہیں اور جنگ کے خاتمے کی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ لڑائی کو روک پاؤں گا یا نہیں ۔
اگرچہ ان کے بیانات الجھن آمیز ہیں، تاہم ان کی قیادت میں امریکہ نے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی ہے، خاص طور پر روسی فضائی حملوں میں شدت آنے کے بعد۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکہ کے ساتھ تعاون تیز کیا ہے تاکہ پیٹریاٹ جیسے ایئر ڈیفنس سسٹمز جلد از جلد فراہم کیے جا سکیں۔
ادھر امریکہ تائیوان کو بھی مسلسل عسکری امداد فراہم کر رہا ہے، جس کی مالیت اب 20 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ٹرمپ کے دور میں اسلحے کی فروخت میں نمایاں اضافہ ہوا، جو بیجنگ کی شدید ناراضی کا باعث بنا اور ’ون چائنا پالیسی‘ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کے طور پر دیکھا گیا۔
امریکی حکمتِ عملی میں تضاد
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف چند ہفتے قبل امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جن سے خاطر خواہ نقصان پہنچا۔ تاہم، چند ہی دن بعد واشنگٹن نے یوٹرن لیتے ہوئے تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کی کوششیں شروع کر دیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی اب ردِعمل پر مبنی، متضاد اور غیر مربوط ہو چکی ہے — جو کبھی دھمکی دیتی ہے، کبھی جارحیت دکھاتی ہے، اور پھر اسی دشمن سے مذاکرات کی بھیک مانگتی ہے۔ یہ طرز عمل نہ صرف اتحادیوں کو مایوس کرتا ہے بلکہ دشمنوں کو مزید جری بناتا ہے۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ماسکو، ٹرمپ کے بیانات کو بغور دیکھ رہا ہے۔ لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اب ایک غیر مستحکم طاقت کی صورت میں ابھر رہا ہے، جو عالمی سطح پر اعتماد کھو رہا ہے۔

