مشرق وسطیٰ (مشرق نامہ) — روسی میڈیا نے منگل کے روز تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں یمنی مسلح افواج کی کارروائی کا نشانہ بننے والا مال بردار جہاز میجک سیز ایک ایسی بحری کمپنی کی ملکیت تھا جس کے دیگر کئی جہاز گزشتہ چند ماہ کے دوران قابض اسرائیلی بندرگاہوں پر آتے جاتے رہے ہیں۔
روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس نے بحری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذکورہ کمپنی کے بیڑے کا یہ پہلا جہاز نہیں جو اسرائیل سے منسلک بحری راستوں پر سرگرم رہا ہو۔ یہ ان بحری اہداف کی نوعیت کو نمایاں کرتا ہے جو اب یمنی افواج کے حملوں کی زد میں ہیں، کیونکہ یہ کارروائیاں غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر جاری محاذ آرائی کا حصہ ہیں۔
یاد رہے کہ میجک سیز کو ایک منظم کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا جس میں چار بغیر پائلٹ بحری یونٹس شامل تھے۔ ان میں سے دو نے جہاز کے بائیں جانب ضرب لگائی، جس سے اس کے ڈھانچے اور سامان کو شدید نقصان پہنچا اور بالآخر جہاز مکمل طور پر ڈوب گیا۔
یمنی مسلح افواج کی اس کارروائی نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے، خاص طور پر اس انکشاف کے بعد کہ جہاز کی مالک کمپنی کی اسرائیلی بندرگاہوں سے منسلک راستوں پر سرگرمی کی ایک واضح تاریخ موجود ہے۔
حالیہ مہینوں میں یمن نے اپنی بحری کارروائیوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اسرائیل سے تعاون کرنے یا اس کی مدد کرنے والا کوئی بھی جہاز ایک جائز ہدف تصور کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق، میجک سیز نے صنعاء کی براہِ راست وارننگز کو نظرانداز کیا تھا، جس کے بعد اس پر چار بغیر پائلٹ بحری ڈرونز سے حملہ کیا گیا، جو اس کی مکمل تباہی اور غرقابی پر منتج ہوا۔

