(مشرق نامہ)پنجاب، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں شدید مون سون بارشوں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا بلکہ بنیادی ڈھانچے، گھروں، سڑکوں، فصلوں اور بجلی و پانی کی فراہمی کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ لاہور میں شدید بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں اور مرکزی سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا، جس سے شہر کا ناقص نکاسی آب نظام بے نقاب ہو گیا۔ سیوریج کے پانی کے ساتھ بارش کا پانی ملنے سے عوام کو بدترین حالات کا سامنا کرنا پڑا، اور کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی معطل رہی۔ شہریوں نے شکایت کی کہ واسا اور دیگر اداروں نے صرف اشرافیہ کے علاقوں پر توجہ دی جبکہ غریب بستیوں کو نظر انداز کیا گیا۔ دوسری جانب، بلوچستان کے اضلاع خضدار اور مستونگ میں دیواریں اور سڑکیں گرنے کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ گلگت بلتستان میں گلیشیئرز کے پگھلنے سے ندی نالوں میں طغیانی، پلوں کی تباہی، فصلوں کا نقصان، اور دیہات کی بنیادی سہولیات معطل ہو گئیں۔ دریا کنارے آباد علاقوں میں رہائشی شدید خطرے سے دوچار ہیں، جبکہ کچھ مقامات پر راستے مکمل بند ہو چکے ہیں۔ ان خطرناک حالات کے پیش نظر حکومتِ پنجاب نے دریاؤں اور نہروں کے اطراف دفعہ 144 نافذ کر دی ہے، اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے جاز کے ساتھ مل کر جیو فینسڈ ایس ایم ایس سسٹم متعارف کروایا ہے تاکہ خطرے سے دوچار علاقوں کے شہریوں کو بروقت وارننگ فراہم کی جا سکے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے تحت گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے کے باعث خطے میں پانی کے شدید بحران اور مزید سیلابوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔

