(مشرق نامہ)اگلگت بلتستان کی طرح خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع باجوڑ میں بھی سلامتی کی صورتحال حساس ہو چکی ہے، جہاں سیکیورٹی فورسز نے منگل کے روز ایک اہم کارروائی کے دوران افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کی کوشش ناکام بناتے ہوئے فتنۃ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 8 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
ڈان اخبار کے مطابق، یہ دہشتگرد کنڑ صوبے سے سرحد پار کر کے لوئی ماموند تحصیل کے پہاڑی علاقوں کے ذریعے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ خفیہ اطلاع ملنے پر سیکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو نشانہ بنایا، اور تمام دہشتگرد مارے گئے۔
کارروائی کے بعد پاک افغان سرحد پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ دوبارہ کسی ممکنہ دراندازی کو روکا جا سکے۔ اگرچہ آئی ایس پی آر کی جانب سے اس آپریشن پر تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا، لیکن مقامی باشندوں نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جو کئی گھنٹے جاری رہیں۔
جھڑپوں کے دوران ایک معصوم بچہ محمد خان زخمی ہو گیا، جسے فوری طور پر مقامی اسپتال سے ڈی ایچ کیو اسپتال خار منتقل کر دیا گیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت میں عمل میں لائی گئی جب محض ایک ہفتہ قبل، 2 جولائی کو خار تحصیل میں اسسٹنٹ کمشنر فیصل اسماعیل اور تحصیلدار عبد الودود خان سمیت 5 افراد ایک بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے، جب ان کی سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں 17 افراد زخمی بھی ہوئے تھے جن میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔
یہ مسلسل واقعات اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں دہشتگردی کا خطرہ اب بھی برقرار ہے، اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز ان خطرات کا بھرپور اور مؤثر جواب دے رہی ہیں۔

