گلگت بلتستان(مشرق نامہ)غیر معمولی اور ریکارڈ توڑ گرمی نے گلیشیئرز کے پگھلنے کے عمل کو نہایت خطرناک حد تک تیز کر دیا ہے، جس کے باعث خطے میں کئی علاقوں کو شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ ڈان اخبار کے مطابق، برف کے پگھلنے سے بننے والی گلیشیائی جھیلوں (GLOFs) کے پھٹنے سے نہ صرف دریا اور ندی نالے طغیانی کی حالت میں آ گئے ہیں، بلکہ قراقرم ہائی وے سمیت اہم سڑکیں بند ہو گئی ہیں، گھروں کو نقصان پہنچا ہے، زرعی زمینیں زیرِ آب آ گئی ہیں، اور متعدد مقامات پر مقامی آبادی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (GBDMA) کے ڈائریکٹر جنرل ذاکر حسین کے مطابق، اس سال درجہ حرارت میں بے مثال اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ ہوا ہے بلکہ سیلاب کے امکانات بھی تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔ خاص طور پر دیامر اور گلگت کے علاقے اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ چلاس میں 48.5 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ کیا گیا، جو 1997 کے بعد سب سے زیادہ ہے، جب کہ بونجی میں بھی 46.1 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت ریکارڈ ہوا، جو کہ جولائی 1971 کے بعد کی سب سے بلند سطح ہے۔
مختلف اضلاع میں دریاؤں کے پانی کی سطح بلند ہونے سے قراقرم ہائی وے، نگر ویلی روڈ، سپلتار اور چپورسن جیسے علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو چکی ہیں۔ سیاچن روڈ پر دریائی کٹاؤ سے تھُگس اور بنگیلونگبا کے علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، جب کہ بوٹوگاہ نالے میں آنے والے اچانک سیلاب سے عارضی پل تباہ ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگوں کی نقل و حرکت رک گئی ہے۔ نگر کی سپلتار اور ہماری ندیوں میں آنے والے سیلاب نے نہ صرف زرعی زمینوں، آبپاشی اور پینے کے پانی کے نظام کو نقصان پہنچایا بلکہ بجلی اور پانی کی فراہمی بھی معطل کر دی ہے۔
مقامی انتظامیہ کے مطابق نگر خاص کے علاقے ہامورخے میں مسلسل زمینی کٹاؤ کھیتوں، درختوں اور کئی گھروں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ ادھر ہنزہ کے حسن آباد نالے میں شیشپر گلیشیئر سے آنے والے GLOF نے ایک بار پھر قراقرم ہائی وے اور قریبی بستیوں کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے، جس کے بعد چار گھروں کو احتیاطی تدابیر کے تحت خالی کرایا گیا ہے اور عوام کو ان علاقوں کی طرف سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔
ریسکیو اقدامات کے تحت GBDMA نے سڑکوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے بھاری مشینری روانہ کر دی ہے، جب کہ متاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ زرعی انفرااسٹرکچر کی بحالی بھی جاری ہے، اور گلیشیئرز کی سائنسی نگرانی کے لیے ادارہ اسپارکو سے تعاون حاصل کر رہا ہے۔
ادھر پنجاب میں بھی شدید مون سون بارشوں کے نتیجے میں شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں نکاسی آب کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے، جہاں کئی چوکوں اور سڑکوں پر پانی کھڑا ہے۔ واسا کو 24 گھنٹے ایمرجنسی بنیادوں پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیش گوئی کی ہے، جس سے دریا کنارے علاقوں میں سیلابی خطرہ بڑھ گیا ہے۔
پنجاب میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے ہنگامی اجلاس منعقد کر کے تمام اضلاع کو ہائی الرٹ کر دیا ہے، جب کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ تمام ادارے فیلڈ میں متحرک رہیں، امدادی کاموں کی نگرانی کریں اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

