ہیگ(مشرق نامہ):بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے منگل کے روز طالبان کے دو اعلیٰ رہنماؤں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں، جن پر افغان خواتین اور بچیوں کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم، خاص طور پر صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت کے ججوں نے قرار دیا کہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف معقول شواہد موجود ہیں کہ وہ خواتین کو ان کی صنف کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
عدالت کے بیان کے مطابق:اگرچہ طالبان نے پوری آبادی پر بعض ضابطے نافذ کیے، لیکن انہوں نے خاص طور پر خواتین اور بچیوں کو ان کی جنس کی بنیاد پر نشانہ بنایا، اور انہیں تعلیم، آزادیٔ نقل و حرکت، اظہار، سوچ، ضمیر اور مذہب جیسے بنیادی حقوق سے محروم کیا۔
ججوں نے مزید کہا کہ طالبان نے ایسے افراد کو بھی نشانہ بنایا جن کی جنسی شناخت یا رجحان ان کی پالیسیوں سے متصادم تھا۔
یہ مبینہ جرائم 15 اگست 2021 (طالبان کے اقتدار پر قبضے) سے لے کر کم از کم 20 جنوری 2025 تک جاری رہے۔ اس عرصے میں طالبان نے لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم اور خواتین کو یونیورسٹی جانے سے روک دیا، جس کے باعث افغانستان دنیا کا واحد ملک بن گیا جہاں اس سطح پر خواتین کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد ہے۔
طالبان نے غیر سرکاری تنظیموں میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی لگائی، ہزاروں خواتین کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا گیا یا گھر بیٹھے تنخواہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ بیوٹی سیلونز بند کر دیے گئے، خواتین کو پارکوں، جم، حمام اور بغیر محرم کے سفر سے روک دیا گیا۔ امر بالمعروف کی نئی ہدایات کے تحت عوامی سطح پر خواتین کے گانے اور شاعری پڑھنے پر پابندی لگائی گئی، اور گھر سے باہر خواتین کی آواز اور جسم مکمل طور پر ڈھانپنے کا حکم دیا گیا۔
آئی سی سی کے پراسیکیوٹر کریم خان نے جنوری میں عدالت سے وارنٹ جاری کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا تھا:افغان خواتین، بچیاں اور LGBTQ افراد طالبان کی جانب سے ایک بے مثال، ناقابل برداشت اور مسلسل ظلم کا شکار ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ عدالت کا یہ قدم ایک واضح پیغام ہے کہ افغان خواتین کی موجودہ صورتحال ناقابل قبول ہے، اور مزید طالبان رہنماؤں کے وارنٹ بھی جلد جاری کیے جائیں گے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے طالبان کی خواتین دشمن پالیسیوں کی مذمت کی
پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے افغانستان میں طالبان کی خواتین اور بچیوں کے خلاف منظم جبر کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
قرارداد کے حق میں 116 ممالک نے ووٹ دیا، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے مخالفت کی، اور 12 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ طالبان نے ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس میں خواتین کی منظم تفریق، الگ تھلگ کرنے، اور انسانی عظمت کی بے حرمتی شامل ہے۔
ارکان نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے تمام قوانین اور پالیسیاں واپس لیں جو خواتین اور بچیوں کے انسانی حقوق اور تمام افغانوں کی بنیادی آزادیوں پر ناقابل برداشت پابندیاں عائد کرتی ہیں۔
اس قرارداد میں 2023 میں اقوامِ متحدہ کی جانب سے شروع کیے گئے دوحہ مذاکرات کا خیر مقدم کیا گیا، اور سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک بین الاقوامی رابطہ کار مقرر کریں جو عالمی برادری کی کوششوں کو مربوط کرے۔
تاہم، امریکہ نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے طالبان حکومت کے ساتھ کسی قسم کی غیر نتیجہ خیز بات چیت کو مسترد کر دیا۔
امریکی نمائندے جوناتھن شریئر نے کہا:تقریباً چار سال بعد بھی ہم انہی طالبان حکام سے بات کر رہے ہیں، بغیر کسی ٹھوس نتیجے کے۔ اب ہم ان کے ظالمانہ طرز عمل کو مزید برداشت نہیں کریں گے۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ روس حال ہی میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والا پہلا ملک بن چکا ہے۔

