اسرائیل(مشرق نامہ)فوج نے گزشتہ تین ماہ کے دوران جنوبی شام کے صوبہ قنیطرہ اور درعا میں چھ نئے فوجی اڈے قائم کیے ہیں۔ ان نئے اڈوں کے قیام کے ساتھ اسرائیلی فوج کی خطے میں کل تنصیبات کی تعداد 10 ہو گئی ہے۔ یہ اقدام 1974ء کے Disengagement Agreement کی کھلی خلاف ورزی ہے، جو 1973ء کی یومِ کپور جنگ کے بعد اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں طے پایا تھا۔
بشار الاسد حکومت کے سقوط کے بعد اسرائیل نے شام بھر میں فضائی حملوں میں شدت لائی اور گولان کی مقبوضہ پہاڑیوں سے آگے بڑھ کر غیر عسکری بفر زون (جو بین الاقوامی طور پر غیر جانب دار علاقہ تصور کیا جاتا ہے) میں بھی فوجی سرگرمیاں تیز کر دیں۔
نئے قائم کردہ اڈے زیادہ تر اہم شاہراہوں کے سنگم یا اسٹریٹجک پہاڑیوں کے آس پاس واقع ہیں، جہاں سے قریبی دیہات پر براہِ راست نظر رکھی جا سکتی ہے۔ قنیطرہ میں اسرائیل نے سب سے پہلے جباتہ الخشب، قرص النفل، اور القحطانیہ کے دیہات میں اڈے قائم کیے، جب کہ بفر زون سے باہر کودانہ کے علاقے میں بھی ایک تنصیب تعمیر کی گئی۔
تین ماہ کے دوران درعا کے دیہات الشجرہ، معاریہ، اور عابدین، اور قنیطرہ کے طولول الحمر، الحمیدیہ اور منترہ ڈیم کے قریب مزید اڈے قائم کیے گئے، جس سے بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ طولول الحمر میں بنایا گیا اڈہ اب دمشق کے سب سے قریب ترین اسرائیلی فوجی مرکز ہے، جو شامی دارالحکومت سے محض 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور تباہی
اسرائیلی فوجی موجودگی میں اضافے سے تقریباً 6,000 افراد کو الحمیدیہ گاؤں سے بے گھر ہونا پڑا۔ ایک مقامی شہری محمد علی نے بتایا کہ رات کی تاریکی میں اسرائیلی فوجی آئے اور 15 مکانات مسمار کر دیے۔ ہم صرف ذاتی سامان کے ساتھ بھاگ نکلے،علی نے کہا۔ انہوں نے کہا تھا تین دن میں واپس آ سکو گے، لیکن اب چھ ماہ ہو چکے ہیں۔
مزید برآں، اسرائیلی فورسز نے تقریباً 2,000 دونم (500 ایکڑ) زرعی اراضی کو خندقیں کھود کر اور بفر زون سے باہر کے علاقے پر قبضہ کر کے تباہ کر دیا۔ محمد ابو فحید کے مطابق، "اسرائیل نے شاید ایک دو بار امداد تقسیم کی، باقی لوگ سخت ضرورت میں ہیں۔ ایک چھوٹا سا کلینک ہے، لیکن وہ بھی صرف ‘ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز’ کے رحم و کرم پر ہے۔”
فصلیں تباہ، جنگلات کا صفایا، نقل و حرکت محدود
خان ارنبہ گاؤں سے تعلق رکھنے والے باسل عثمان نے کہا کہ اسرائیلی فورسز نے صدیوں پرانے جنگلات کو تباہ کر دیا ہے۔ زندگی مفلوج ہو چکی ہے، سیاحت اور تعمیر نو دونوں رک چکے ہیں، انہوں نے شکوہ کیا۔
جباتہ الخشب کے احمد کیوان کے مطابق، لوگ اب سورج غروب ہونے کے بعد گھروں سے نہیں نکلتے، کیونکہ اسرائیلی افواج نے زرعی زمینیں ضبط کر لی ہیں، جو مقامی لوگوں کا واحد ذریعہ معاش تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی افسوسناک ہے۔
جباتہ الخشب ہی کے محمد مریود نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز اکثر عارضی چیک پوائنٹس قائم کرتی ہیں، گھروں پر چھاپے مارتی ہیں، نوجوانوں کو حراست میں لیتی ہیں، اور کسانوں کو کھیتوں تک پہنچنے سے روکتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے پورا علاقہ خوف زدہ ہے، انہیں فوری طور پر یہاں سے نکلنا چاہیے،انہوں نے زور دیا۔

