مشرق نامہ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ کی مزاحمت اور عوام کے حوصلے کو توڑنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے، اور فلسطینیوں کی ثابت قدمی نے شکست کے وہم و گمان کو چکنا چور کر دیا ہے۔ حماس کے مطابق، نسل کشی پر مبنی جاری جنگ کو 640 دن گزرنے کے باوجود قابض اسرائیلی افواج اپنے اصل مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔ نہ تو وہ غزہ کے عزم کو متزلزل کر سکے اور نہ ہی مزاحمت کو کچل سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ کلّی شکست اور مکمل صفایا جیسے اسرائیلی نعرے مزاحمتی سرنگوں اور گھات لگا کر کیے جانے والے حملوں کے سامنے زمیں بوس ہو چکے ہیں۔ ان کارروائیوں نے اسرائیلی عسکری پیش قدمی کو مستقل چیلنج کیا ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کو طاقت کے ذریعے بازیاب کرانے کا وہم بھی ٹوٹ چکا ہے کیونکہ مزاحمت نہ صرف مسلسل جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ میدانِ جنگ میں بھی بالادستی قائم رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جدعون طرز کی کئی اسرائیلی فوجی گاڑیاں عملے سمیت تباہ کی گئیں، جب کہ اسرائیلی محاصرے اور قحط پھیلانے کی پالیسی کے باوجود مجاہدین پوری قوت سے مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تنظیم کے مطابق، قابض فوج اب خود اعتراف کر رہی ہے کہ وہ نہ تو اپنے قیدی بازیاب کرا سکی ہے اور نہ ہی مزاحمت کو شکست دے پائی ہے، کیونکہ اس کی ہر حملہ آور راہداری موت کے میدان میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور نسلی تطہیر کے منصوبے بھی فلسطینی عوام کی استقامت اور سیاسی و انٹیلیجنس مطالبات کو مسترد کرنے کی مزاحمتی پالیسی کی بدولت ناکام ہو چکے ہیں۔
بیان کے آخر میں حماس نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کی فوجی، سیاسی اور اخلاقی ناکامی اس کی تمام تر پروپیگنڈہ مہم کی تردید ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا کہ فلسطینیوں کی جدوجہد، بیداری، ارادے اور صبر کی جنگ ہے، جو تاحال جاری ہے۔
جنگ بندی مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار
یہ تمام تر صورتحال ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب قطر اور مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات پیر کے روز دوحہ میں کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہو گئے۔ ایک فلسطینی عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ صبح کے اجلاس میں کوئی بریک تھرو نہیں ہوا، تاہم شام کو بات چیت دوبارہ شروع ہو گی، اور حماس کو اب بھی کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ہے۔
دوحہ میں جاری ان مذاکرات میں امریکہ بھی پسِ پردہ کردار ادا کر رہا ہے، اور اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے آئندہ دورۂ واشنگٹن کے پیش نظر ان مذاکرات کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے، مگر پیش رفت انتہائی سست روی کا شکار ہے۔
رائٹرز کے مطابق، فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں انسانی امداد کے آزادانہ اور محفوظ داخلے سے مسلسل انکار مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستقل جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی جیسے امور پر بھی شدید اختلافات موجود ہیں۔

