کولمبیا(مشرق نامہ)منگل کے روز شائع ہونے والے اس مضمون میں پیٹرو نے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کو تباہی کی منظم مہم قرار دیا، جس کے نتیجے میں فلسطینی عوام کی نسل کشی، نسلی تطہیر اور محاصرہ جیسے جرائم عام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ اگر دنیا اب بھی خاموش رہی تو نہ صرف فلسطینیوں سے غداری ہوگی بلکہ نیتن یاہو کی حکومت کے جرائم میں عالمی شراکت داری کی راہ ہموار ہو جائے گی۔
پیٹرو نے کہا کہ عالمی بے عملی ایک ایسا ماڈل تشکیل دے رہی ہے جہاں نوآبادیاتی تشدد، محاصرہ، اور نسل کشی جیسے مظالم کو معمول سمجھا جانے لگتا ہے۔ ان کے بقول:
اگر ہم اب حرکت میں نہ آئے تو نہ صرف ہم فلسطینی عوام سے منہ موڑ رہے ہیں بلکہ ان جرائم میں شریک بھی ہو رہے ہیں جو نیتن یاہو کی حکومت انجام دے رہی ہے۔
انہوں نے ستمبر 2024 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی اس تاریخی قرارداد کا حوالہ بھی دیا، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 12 ماہ کے اندر اندر اپنی غیر قانونی قبضہ ختم کرے۔ کولمبیا ان 124 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، اور پیٹرو کے مطابق، اب ان ممالک پر اخلاقی اور قانونی طور پر پابندیاں، قانونی چارہ جوئی، اور تجارتی اقدامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
کولمبیا نے اس ضمن میں پہلا عملی قدم اٹھاتے ہوئے اسرائیل کو کوئلے کی برآمد معطل کر دی ہے۔ پیٹرو نے اس موقع پر کہا:ہم فلسطینی بچوں کا قتل عام کرنے والی مشینری کو ایندھن فراہم نہیں کر سکتے اور پھر غیر جانبداری کا دعویٰ کریں۔
واضح رہے کہ مئی 2025 میں کولمبیا نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے، اور اسے کھلے الفاظ میں نسل کشیقرار دیا تھا۔ اس کے بعد کولمبیا نے فلسطین کے لیے اپنا پہلا سفیر مقرر کیا اور غزہ کے زخمی بچوں کو علاج کے لیے کولمبیا منتقل کرنے کا وعدہ کیا۔
صدر پیٹرو نے ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کی مثالیں دیتے ہوئے ان اقدامات کی تعریف کی، جن میں ملائیشیا نے اسرائیلی جہازوں کی بندرگاہوں تک رسائی بند کر دی اور جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزام میں عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) میں مقدمہ دائر کیا۔ کولمبیا بھی اس کیس میں ایک مداخلت کار ریاست کے طور پر شامل ہوا ہے۔
اپنے مضمون کے آخر میں، پیٹرو نے اعلان کیا کہ کولمبیا اور جنوبی افریقہ 15 جولائی کو ہیگ گروپ کی میزبانی میں ایک ہنگامی سربراہی اجلاس منعقد کریں گے، جس کا مقصد اسرائیل کو سفارتی و معاشی طور پر الگ تھلگ کرنا اور بین الاقوامی قانون کی ساکھ کو بحال کرنا ہے۔ ان کے مطابق، اقوام متحدہ کی امن کانفرنس کے التوا کے بعد اب یہی اجلاس عالمی فالج کا متبادل بن سکتا ہے۔
پیٹرو نے غزہ بحران کو صرف اخلاقی سانحہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی جنوبی (Global South) کے ممالک کے لیے وجودی امتحان قرار دیا۔ انہوں نے لکھا:
ہم یا تو بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے دفاع میں ڈٹ جائیں، یا پھر طاقت کے بے لگام کھیل کے سامنے بے بسی سے تماشائی بنے رہیں۔
انہوں نے اختتام پر دوٹوک انداز میں لکھا:یہ وقت ہے فیصلہ کرنے کا: یا تو نوآبادیاتی تشدد کا ساتھ، یا اس کے خلاف اجتماعی مزاحمت۔

