اسرائیل(مشرق نامہ)جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد جولائی 2025 کے آغاز میں 10,800 سے تجاوز کر گئی ہے، جو کہ دوسری انتفاضہ (2000-2005) کے بعد کسی بھی وقت میں قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ اعداد و شمار فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں نے جاری کیے ہیں، جن کے مطابق قیدیوں میں خواتین، بچے، بزرگ، بیمار، سزایافتہ افراد، اور بڑی تعداد میں انتظامی حراست کے تحت قید کیے گئے لوگ شامل ہیں۔ انتظامی حراست میں رکھے گئے فلسطینیوں کی تعداد 3,629 ہو چکی ہے، جنہیں بغیر فردِ جرم اور بغیر کسی باقاعدہ مقدمے کے غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اس اسرائیلی پالیسی کو بین الاقوامی قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ 2,454 قیدی ایسے ہیں جنہیں "غیر قانونی جنگجو” قرار دے کر قید کیا گیا ہے۔ ان میں نہ صرف فلسطینی شامل ہیں بلکہ لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے عرب شہری بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔ غزہ سے تعلق رکھنے والے بہت سے قیدیوں کو فوجی کیمپوں میں رکھا گیا ہے جن کی درست تفصیلات دستیاب نہیں۔ موجودہ قیدیوں میں 50 خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سے دو کا تعلق غزہ کی پٹی سے ہے، جب کہ 450 سے زیادہ فلسطینی بچے بھی اسرائیلی قید میں ہیں۔ خواتین قیدیوں کو بدترین جیل حالات کا سامنا ہے؛ انہیں دن میں صرف 15 منٹ کے لیے کھلی فضا میں جانے کی اجازت دی جاتی ہے اور اکثر سیکشنز سیکیورٹی وجوہات کے نام پر مکمل طور پر بند رکھے جاتے ہیں۔ خوراک اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں بھی شدید کمی واقع ہوئی ہے۔
رپورٹس میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی جیل حکام نے بعض خواتین قیدیوں کو تشدد، گالی گلوچ، تھوکنے، اور حتیٰ کہ ریپ کی دھمکیوں جیسے سنگین مظالم کا نشانہ بنایا۔ یہ سلوک بالخصوص اس وقت شروع ہوا جب ایران کے خلاف اسرائیل کی حالیہ جنگی مہم کا آغاز ہوا۔ ان خواتین میں اسلام شعلی، تسنیم عودہ، لین مسک، سماح حجاوی اور فاطمہ جسراؤی شامل ہیں، جنہیں سخت جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی۔
فلسطینی حقوق کے اداروں نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں جاری انسانی حقوق کی ان سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی گرفتاری، خاص طور پر بغیر مقدمے کے قید، صریح ظلم اور بین الاقوامی انسانی ضمیر کے لیے چیلنج ہے۔

