واشنگٹن(مشرق نامہ):پینٹاگون نے تصدیق کی ہے کہ امریکہ جلد یوکرین کو نئی دفاعی ہتھیاروں کی کھیپ روانہ کرے گا۔ یہ فیصلہ حالیہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد کیا گیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، یہ اقدام جاری جنگ کے تناظر میں کییف کی حمایت جاری رکھنے کی امریکی پالیسی کا حصہ ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ یہ صرف دفاعی نوعیت کے ہوں گے۔
پینٹاگون کی جانب سے فراہم کیے جانے والے ہتھیاروں کی نوعیت اور تعداد فی الحال ظاہر نہیں کی گئی۔
روس کا شدید ردعمل
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کو فراہم کیے جانے والے تمام ہتھیار روس کی نظر میں جائز فوجی ہدف ہوں گے۔
روسی وزارتِ خارجہ نے نیٹو ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ آگ سے کھیل رہے ہیں اور یوکرین کو مغربی اسلحہ فراہم کرنا نہ صرف مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرتا ہے بلکہ تنازع کو مزید بھڑکاتا ہے۔
لاوروف نے یہ بھی الزام لگایا کہ امریکہ اور نیٹو صرف ہتھیار ہی نہیں دے رہے بلکہ یوکرینی فوجیوں کو برطانیہ، جرمنی، اور اٹلی جیسے ممالک میں تربیت دے کر براہِ راست جنگ میں شریک بھی ہو چکے ہیں۔
فوجی امداد کا ازسرِنو جائزہ
ادھر، صدر ٹرمپ کے یوکرین کے لیے خصوصی ایلچی کیتھ کیلاگ جلد یوکرینی وزیرِ دفاع رستم عمروف سے روم میں ایک بین الاقوامی امدادی کانفرنس کے موقع پر ملاقات کریں گے، جس کے بعد کییف میں بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق حالیہ توقف دراصل پینٹاگون کے معمول کے عالمی امدادی جائزے کا حصہ تھا، جس میں عالمی سطح پر امریکی فوجی امداد پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
2 جولائی کو وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے تصدیق کی تھی کہ کچھ ہتھیاروں — جن میں گولہ بارود اور طیارہ شکن میزائل شامل ہیں — کی ترسیل روک دی گئی ہے، تاکہ امریکی مفادات کو ترجیح دی جا سکے۔
دوسری جانب کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ اگر امریکہ یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی کم کر دیتا ہے تو جنگ کا خاتمہ جلد ممکن ہو گا۔
تجزیہ
یہ پیشرفت نہ صرف میدان جنگ پر اثر ڈالے گی بلکہ امریکہ، روس، اور نیٹو کے تعلقات کو بھی مزید کشیدہ کر سکتی ہے۔ یوکرین کو دفاعی صلاحیتیں فراہم کرنا ایک طرف، جبکہ روس کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیاں خطے کو مزید غیر مستحکم کر سکتی ہیں۔

