(مشرق نامہ)قابض اسرائیلی فورسز نے پیر کی صبح جنوبی غرب اردن کے علاقے بیت لحم میں المیادین ٹی وی کے بیورو چیف ناصر اللحام کو ان کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار کر لیا۔ چھاپے کے دوران ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان و ان کے اہلِ خانہ کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے۔
مقامی ذرائع کے مطابق گرفتاری کے وقت اسرائیلی فوجیوں نے جان بوجھ کر گھر میں نقصان پہنچایا۔ اس کارروائی پر فلسطینی سیاسی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے۔
فلسطینی سیاسی کارکن سنّان شقدہ نے المیادین کو بتایا کہ:ناصر اللحام کی گرفتاری کا مقصد المیادین نیٹ ورک کو نشانہ بنانا ہے کیونکہ وہ اسرائیلی بیانیے کو چیلنج کرنے والی حقیقت پسندانہ کوریج فراہم کر رہا ہے۔
یہ گرفتاری صحافیوں کے خلاف وسیع تر اسرائیلی مہم کا حصہ ہے۔ اکتوبر 2023 میں بھی IOF نے ناصر اللحام کے گھر پر چھاپہ مارا تھا، ان کے خاندان پر تشدد کیا اور ان کے دو بیٹوں کو حراست میں لیا تھا۔
ادھر، المیادین کی صحافی ہنا معحمّد کو بھی مسلسل دھمکیوں کا سامنا ہے تاکہ مقبوضہ علاقوں سے آزادانہ رپورٹنگ کو روکا جا سکے۔
اسرائیلی ریاست نے نہ صرف المیادین کی نشریات پر پابندی عائد کی ہے، بلکہ اس کا نشریاتی سامان ضبط کر لیا گیا ہے اور ویب سائٹس بھی بلاک کر دی گئی ہیں۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ میں نسل کشی اور غرب اردن پر حملے جاری ہیں۔
فتح تحریک کے ترجمان منذر الحائک نے المیادین کو بتایا کہ:ناصر اللحام کی گرفتاری صحافت کو دبانے اور صحافیوں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ:فلسطین میں اسرائیلی مظالم پر آزاد میڈیا کی کوریج نے اسرائیل کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اب وہ جبر و دہشت گردی کے ہتھکنڈے اپنا رہا ہے۔ امریکہ کی مکمل پشت پناہی کے بغیر یہ سب ممکن نہ ہوتا۔

