جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیلندن میں 83 سالہ پادری کی گرفتاری کے دفاع پر میٹ پولیس...

لندن میں 83 سالہ پادری کی گرفتاری کے دفاع پر میٹ پولیس چیف پر تنقید
ل

لندن(مشرق نامہ)پولیس کے سربراہ سر مارک راؤلی کو 83 سالہ ریٹائرڈ پادری ریورنڈ سو پارفٹ کی گرفتاری کا دفاع کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ پادری کو ہفتے کے روز اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ I oppose genocide. I support Palestine Action کا پلے کارڈ اٹھائے کھڑی تھیں۔

یہ گرفتاری Palestine Action کو دہشت گرد تنظیم قرار دیے جانے کے بعد عمل میں آئی، جس کے بعد اس کی حمایت یا رکنیت اختیار کرنا قانونی جرم قرار دیا گیا ہے، جس کی سزا 14 سال قید تک ہو سکتی ہے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے راؤلی نے کہا:قانون کی کوئی عمر حد نہیں۔ چاہے آپ کی عمر 18 ہو یا 80، اگر آپ ممنوعہ تنظیم کی حمایت کر رہے ہیں تو قانون لاگو ہوگا۔

اس بیان پر سوشل میڈیا پر شدید ردعمل آیا۔ گرین پارٹی کے رہنما زیک پولانسکی نے لکھا:ظلم یہ ہے کہ جنہیں نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنے پر گرفتار کیا جا رہا ہے، وہی اصل میں انسانیت کے ہیرو ہیں۔

وکلا، انسانی حقوق کارکنوں، اور سیاست دانوں نے اس اقدام کو جمہوری آزادیوں پر حملہ قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق وکیل لورا اوبرائن نے کہا کہ:یہ گرفتاری اور proscription ایک سیاسی زیادتی ہے جس کا مقصد براہِ راست عمل کی حمایت کرنے والوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔

سوشل میڈیا پر عوام نے پادری سو پارفٹ کو ہیرو قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ "کیا اب ہیرو کہنا بھی جرم بن چکا ہے؟

درایں اثنا، Palestine Action جیسا ہی نیا گروپ Yvette Cooper کے نام سے سامنے آیا ہے، جو برطانیہ کی وزیر داخلہ کے نام پر ہے۔ اس گروہ نے اسرائیل کو اسلحہ پہنچانے والی کمپنی کی گاڑیوں پر اسپرے پینٹ کرنے کی فوٹیج شیئر کی اور کہا:اگر آپ Palestine Action پر پابندی لگاتے ہیں، تو Yvette Cooper پر بھی لگانی ہوگی۔

اقوامِ متحدہ کے کئی خصوصی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی حکومت کی یہ کارروائی فلسطین سے متعلق احتجاج اور وکالت پر خاموشی کی لہر طاری کر سکتی ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین