جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیامریکا میں پروفیسروں کا pro-Palestinian گرفتاریوں کے خلاف مقدمہ

امریکا میں پروفیسروں کا pro-Palestinian گرفتاریوں کے خلاف مقدمہ
ا

امریکہ(مشرق نامہ)اعلیٰ تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے پروفیسروں کے ایک گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کے خلاف وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے، جس کے تحت فلسطین نواز خیالات رکھنے والے غیر ملکی طلبا کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

پیر کے روز دائر کیے گئے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں نے امریکی جامعات میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے طلبا خاموشی اختیار کرنے یا ملک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

یہ مقدمہ امریکن ایسوسی ایشن آف یونیورسٹی پروفیسرز (AAUP) نے دائر کیا ہے، جو ہارورڈ سمیت امریکہ کی متعدد نامور جامعات کے اساتذہ کی نمائندگی کرتی ہے۔

مدعیان کا کہنا ہے کہ طلبا کو ان کے نظریات کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کہ امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت اظہار رائے کی آزادی کے خلاف ہے اور غیر قانونی عمل ہے۔

یہ مقدمہ میساچوسٹس کی وفاقی عدالت میں سنا جائے گا، جہاں حکومت کو پہلی بار یہ دفاع کرنا ہوگا کہ غیر ملکی شہریوں کو محض ان کے سیاسی خیالات کی بنیاد پر ملک بدر کرنا کیوں ضروری ہے۔

یہ قانونی کارروائی ان متعدد غیر ملکی طلبا اور اسکالرز کی گرفتاری اور حراست کے بعد شروع ہوئی ہے جنہوں نے امریکی حمایت یافتہ اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔

امریکی حکومت نے اپنے دفاع میں مؤقف اپنایا ہے کہ فلسطین نواز افراد کی موجودگی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، تاہم ناقدین نے اس اقدام کو "نظریاتی ملک بدری” قرار دیتے ہوئے سیاسی آزادیوں کو دبانے کی کوشش کہا ہے۔

اس کے باوجود، فلسطین کے حق میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، خاص طور پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف، جس میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 57,523 فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، شہید ہو چکے ہیں اور 136,617 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

ییل یونیورسٹی میں حالیہ کریک ڈاؤن میں 44 طلبا کو گرفتار کیا گیا اور کیمپس میں لگایا گیا احتجاجی کیمپ ختم کر دیا گیا۔ تولین یونیورسٹی نے بھی سات طلبا کے خلاف تادیبی کارروائی کا آغاز کیا ہے، جنہوں نے نیو اورلینز میں ایک احتجاج میں شرکت کی تھی۔ ان میں محمود خلیل بھی شامل ہیں، جو کولمبیا یونیورسٹی کے سابق طالبعلم اور مظاہروں کے منتظم ہیں، اور اب امریکہ سے ملک بدری کے خطرے سے دوچار ہیں۔

ٹرمپ حکومت نے جنوری 2025 سے ان طلبا کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے جو فلسطینی عوام کے حق میں آواز اٹھاتے ہیں۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین