تحریر: سیلی احمد
شام میں حیات تحریر الشام (ایچ ٹی ایس) کی قیادت کرنے والے ابو محمد الجولانی کو ایک شامی سیاسی کارکن نے امریکہ اور اسرائیل کا "انٹیلی جنس آلہ کار” قرار دیا ہے جو ان کے مفادات کو فروغ دینے میں مصروف ہے۔
پریس ٹی وی ویب سائٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، بیرون ملک مقیم سیاسی کارکن محمد الجاجہ نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے تقریباً چھ ماہ بعد شام کی صورتحال کو "ہر پیمانے پر تباہ کن” قرار دیا اور کہا کہ ملک میں "کوئی بھی محفوظ نہیں” — نہ اقلیتیں، نہ اکثریت۔
ان کے مطابق شام "افراتفری اور تباہی کی ایک خطرناک ڈھلوان” پر لڑھک چکا ہے، جہاں خاص طور پر علوی، مسیحی، اسماعیلی، شیعہ اور معتدل سنی مسلمانوں جیسے طبقات کو منظم نسلی و فرقہ وارانہ صفائی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
الجاجہ کے مطابق سابق صدر بشار الاسد کے علوی فرقے کے افراد پر "انتقام کی شدید مہم” جاری ہے۔ انہوں نے شام کے مغربی ساحلی علاقوں میں "خوفناک قتل عام” کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ عین التینہ گاؤں میں 70 سے زائد شہری قتل کر دیے گئے، جبکہ ہزاروں علویوں کو جبری طور پر بےدخل کیا جا چکا ہے۔ ان کے مکانات اور املاک کو طرطوس اور لاذقیہ میں ضبط کر لیا گیا ہے۔
اقلیتیں آسان ہدف بن چکی ہیں
ایچ ٹی ایس حکومت کی جانب سے مذہبی و نسلی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے دعووں کو الجاجہ نے "کھوکھلا” قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔
ان کے مطابق "مسیحی برادری شدت پسند سلفی گروہوں اور ملیشیاؤں کا آسان ہدف بن چکی ہے۔” انہوں نے دمشق میں مار الیاس چرچ پر حالیہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 22 جون کو ایک بندوق بردار شخص نے چرچ میں عبادت گزاروں پر فائرنگ کی، جس سے 25 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے، بعد ازاں حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔
انہوں نے بتایا کہ مسیحیوں کے گھروں کو لوٹا جا رہا ہے، گرجا گھروں اور خانقاہوں کو تباہ کیا جا رہا ہے، اغوا کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جبکہ معلولا اور صیدنایا جیسے شہروں سے اجتماعی نقل مکانی کی اطلاعات ہیں — اور یہ سب کچھ جلبی حکومت کی چشم پوشی کے تحت ہو رہا ہے۔
الجاجہ کے مطابق اسماعیلی فرقے کے افراد بھی اغوا اور حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سول کارکن ہلال سمعان کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ "بقائے باہمی کی اپیل” کرتا تھا۔
شیعہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "فرقہ وارانہ قتل معمول بن چکا ہے۔” ان کے بقول، کئی افراد کو صرف ناموں یا مخصوص اندازِ تلفظ کی بنیاد پر چیک پوسٹوں پر قتل کر دیا گیا ہے۔
یہاں تک کہ معتدل سنی مسلمان — جو ملک کی اکثریت ہیں — بھی تشدد اور دھمکیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔
الجاجہ کے مطابق ایسے علمائے دین اور مبلغین کو یا تو قتل کر دیا گیا ہے یا ان کی مساجد سے زبردستی بےدخل کر دیا گیا ہے جو انتہا پسندی یا غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کرتے تھے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ریاست مکمل طور پر ٹوٹ چکی ہے۔ نہ کوئی ادارہ باقی ہے، نہ قانون کی عملداری، اور نہ ہی کوئی مرکزی طاقت۔ اقتدار مختلف گروہوں میں بٹ چکا ہے — کچھ ترکی کے وفادار ہیں، کچھ خلیجی ریاستوں اور غیر ملکی شدت پسندوں کے۔
ان کے مطابق اسد حکومت کے خاتمے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیمیں "1,200 سے زائد فرقہ وارانہ خلاف ورزیوں” کا اندراج کر چکی ہیں، "30,000 سے زائد افراد” جیلوں میں نامعلوم حالات میں بند ہیں، اور "5,000 سے زیادہ لڑکیاں” اغوا ہو کر غلامی میں چلی گئی ہیں۔
الجاجہ کا کہنا تھا کہ اسد کے بعد کی شام: کوئی بھی محفوظ نہیں۔
جولانی ایک تربیت یافتہ ایجنٹ
الجاجہ نے کہا کہ جولان پہاڑیوں سے آگے کے شامی علاقوں میں اسرائیلی جارحیت اور قبضے میں توسیع اس بات کا ثبوت ہے کہ جولانی امریکہ-اسرائیل کا انٹیلی جنس آلہ کار ہے، جسے خطے میں مخصوص ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔
انہوں نے جولانی کے ان بیانات کا حوالہ دیا جن میں اس نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے اور سابق حکومت سے جنگ کو اپنی "ترجیح” قرار دیا تھا۔
الجاجہ نے کہا کہ یہ ایک تربیت یافتہ ایجنٹ کی زبان ہے جو جانتا ہے کہ مغرب کو کیا سننا ہے، اور تل ابیب کو یقین دہانی کے سگنل بھیجتا ہے۔
ان کے مطابق، القاعدہ اور داعش سے وابستہ رہنے والا جولانی درحقیقت "ایک مہرہ” اور امریکی منصوبے میں محض "ایک معمولی جزو” ہے۔
الجاجہ نے کہا کہ ابو محمد الجولانی نہ انقلابی ہے، نہ باغی، نہ جنگجو۔ وہ ایک منظم تربیت یافتہ انٹیلی جنس آلہ کار ہے — نپی تلی زبان بولتا ہے، اور طے شدہ حدوں میں کام کرتا ہے۔
جولانی کی اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی پیشکش کے باوجود، انہوں نے کہا کہ اسرائیل شام پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے، کیونکہ "اسے معلوم ہے کہ یہ حکومت کتنی کمزور ہے، اور وہ ان ایجنٹوں کو بھی حقیر سمجھتا ہے جو اس کے لیے کام کرتے ہیں۔”
یہ فوج نہیں، ایک مسلح گروہ ہے
ایچ ٹی ایس کی قیادت میں شام کی نئی فوج میں ہزاروں غیر ملکی تکفیری شدت پسندوں کو شامل کرنے کے منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے، الجاجہ نے کہا کہ یہ قدم جلبی کے اقتدار کو مضبوط کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ خاموش آبادیاتی تبدیلی کی سب سے خطرناک اور غیر اعلانیہ صورت ہے۔
ان کے بقول، یہ حکمران شامی عوام پر اعتماد نہیں کرتا، اسی لیے وہ غیر عرب، اجنبی افراد کو بھرتی کر رہا ہے، جو نہ زبان جانتے ہیں، نہ جغرافیہ، اور نہ ہی کسی مقامی وابستگی کے حامل ہیں — صرف ہتھیار اٹھانے اور بلا چون و چرا حکم ماننے کے لیے۔
انہوں نے کہا کہ یہ افراد "کرائے کے قاتل” ہیں جنہیں تنخواہ، رہائش اور بیمہ جیسی سہولیات کے عوض تیار کیا جا رہا ہے۔
"یہ فوج شام کی حفاظت کے لیے نہیں بلکہ حکمران کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے — شامیوں سے ہی۔”
الجاجہ نے کہا کہ جولانی کی کوشش ہے کہ وہ "ذاتی وفاداری والی ایک نجی فوج” قائم کرے جو "بلا جھجک شامی عوام پر گولیاں چلانے کو تیار ہو — صرف اس بنیاد پر کہ وہ ان میں سے نہیں۔”
ان کے بقول، "جو شخص غیر ملکیوں کو اپنے عوام پر مسلط کرے، وہ ریاست نہیں بلکہ ایک گینگ چلا رہا ہوتا ہے — جو کسی بھی وقت دھماکے سے پھٹ سکتا ہے۔”
شام نئے علاقائی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے
ترک وزیر دفاع کے اس حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ انقرہ کا شام سے انخلا کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں، الجاجہ نے کہا کہ یہ قبضے کا اعلانیہ اظہار ہے — اور ایک واضح پیغام کہ یہ زمین اب تمہاری نہیں رہی، بلکہ نئے علاقائی معاہدے کا حصہ بن چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکی نے شام میں 2011 میں شروع ہونے والی غیر ملکی پشت پناہی والی شورش میں مرکزی کردار ادا کیا، اور وہ کبھی بھی "انقلاب کا حمایتی” نہیں رہا — بلکہ خود اس کا معمار تھا۔
ان کے مطابق ترکی نے جنگ کے ابتدائی ایام میں ہزاروں غیر ملکی شدت پسندوں کو شام میں داخل ہونے دیا، النصرہ فرنٹ کو اسلحہ پہنچایا، اپنی سرزمین پر تربیتی کیمپ قائم کیے، اور جنگجوؤں کو طبی و لاجسٹک سہولیات فراہم کیں۔
"آج جو ہو رہا ہے وہ ایک واضح، نرم سرحدی تقسیم کے منصوبے کا عملی نفاذ ہے۔”
الجاجہ نے نشاندہی کی کہ ترکی نے ادلب، عفرین اور الباب جیسے علاقوں میں ترک تعلیم کا نفاذ کیا، سرکاری اداروں پر ترک پرچم لہرائے، سڑکوں کے نام ترک زبان میں تبدیل کیے، عارضی شناختی کارڈ جاری کیے، سرکاری معاملات ترک زبان میں کیے جا رہے ہیں، اور بڑے فوجی اڈے قائم کیے گئے ہیں۔
"یہ سرحدی تحفظ کے ہنگامی اقدامات نہیں بلکہ مکمل سیاسی اور انتظامی قبضے کی واضح علامتیں ہیں۔”
8 دسمبر 2024 کو عسکریت پسند گروہوں، جن کی قیادت ٹی ایچ ٹی ایس کر رہا تھا، کے ہاتھوں صدر اسد کی حکومت کے خاتمے اور دمشق پر قبضے کے بعد شام میں سیکیورٹی کی صورتحال بدستور غیر مستحکم ہے۔

