جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیافغانیوں کی ایران چھوڑنے کی ڈیڈلان، بارڈر پر ہنگامی صورتحال

افغانیوں کی ایران چھوڑنے کی ڈیڈلان، بارڈر پر ہنگامی صورتحال
ا

اقوام متحدہ (مشرق نامہ) — ایران کی جانب سے افغان شہریوں کو ملک چھوڑنے کے لیے دی گئی ڈیڈلائن کے خاتمے کے بعد ہزاروں افغان مہاجرین ایران-افغانستان سرحد پر جمع ہو گئے، جس کے باعث بارڈر پر ہنگامی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بڑے پیمانے پر واپسی افغانستان میں مزید عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ افغانستان روانگی کی ڈیڈلائن سے چند روز قبل ہی ایران سے ہزاروں افغان شہری سرحدی علاقوں میں پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ ایران نے مئی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ غیر رجسٹرڈ افغان شہری 6 جولائی تک ملک چھوڑ دیں۔

ایرانی حکام کے مطابق اس اقدام سے ملک میں مقیم تقریباً 60 لاکھ افغانوں میں سے 40 لاکھ متاثر ہو سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) نے جمعے کو جاری بیان میں کہا کہ جون کے وسط سے سرحد عبور کرنے والے افغان شہریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق یکم جولائی 2025 سے اب تک 43 ہزار سے زائد افغان شہری ایران کے اسلام قلعہ بارڈر سے سرحد عبور کر کے افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں داخل ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے مطابق صرف جون کے مہینے میں 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ افغان مہاجرین ایران سے افغانستان واپس لوٹے ہیں۔

یونیسیف کے افغانستان میں نمائندے تاج الدین اویولی نے موجودہ صورت حال کو "انتہائی دشوار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ہنگامی بحران ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک کے لیے جو پہلے ہی مہاجرین کی مسلسل واپسی جیسے بڑے چیلنج سے نبرد آزما ہے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ رواں سال اب تک ایران اور پاکستان سے 14 لاکھ افغان شہری واپس آ چکے ہیں۔
ان کے مطابق سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ واپس آنے والوں میں 25 فیصد بچے شامل ہیں، جب کہ مہاجر خاندان نہایت کم سامان اور محدود مالی وسائل کے ساتھ وطن واپس آ رہے ہیں۔

اقوام متحدہ نے افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ مشکل حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے افغان شہریوں کی جبری واپسی سے گریز کریں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ غربت، بے روزگاری اور ماحولیاتی تبدیلی جیسے مسائل سے دوچار افغانستان بڑے پیمانے پر مہاجرین کی واپسی کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا، جس سے ملک میں عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین