جمعرات, فروری 19, 2026
ہومبین الاقوامیچین نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی مخالفت میں ایرانی رہبر کے...

چین نے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی مخالفت میں ایرانی رہبر کے عزم کو سراہا
چ

چین(مشرق نامہ)اسلامی انقلاب کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے اس عزم کی قدر کرتا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری نہیں کرے گا، اور ساتھ ہی پرامن ایٹمی توانائی کے حصول کے ایران کے حق کا بھی احترام کرتا ہے۔

یہ بات چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے جمعے کے روز پیرس میں فرانسیسی ہم منصب ژاں-نوئیل بارو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہی۔

چینی وزیر نے نشاندہی کی کہ آیت اللہ خامنہ ای نے متعدد مواقع پر اسلامی جمہوریہ ایران کے اس پختہ عزم کو دہرایا ہے۔

رہبر معظم نے ایک واضح فتویٰ جاری کیا ہے جس میں غیر روایتی ہتھیاروں کے حصول، تیاری یا ذخیرہ اندوزی کو اخلاقی و مذہبی بنیادوں پر سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

تاہم امریکہ اور اس کے اتحادی، خاص طور پر اسرائیلی حکومت، مسلسل ایران پر الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ وہ اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے—ایک دعویٰ جس کی تصدیق اب تک بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نہیں کر سکی، حالانکہ اس نے ایران میں سخت ترین معائنہ کیا ہے۔

اسرائیل اور امریکہ کی جارحیت کی مذمت

اس دوران، وانگ یی نے گزشتہ ماہ ایران کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جنگ کی سخت مذمت کی، جس کے اختتامی مرحلے میں امریکہ بھی شامل ہو گیا تھا۔

اس جارحیت میں اسرائیل نے ایرانی ایٹمی و عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 935 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اعلیٰ عسکری عہدیدار اور ایٹمی سائنسدان بھی شامل تھے۔ سائنسدانوں کو ان کے رہائشی مکانات میں نشانہ بنایا گیا۔

بالآخر 12 دن بعد اسرائیلی حکومت نے اسلامی جمہوریہ کی مؤثر جوابی کارروائیوں کے دباؤ میں آ کر جنگ بندی کی درخواست کی۔ تاہم جیسے ہی جنگ اختتام کی طرف بڑھنے لگی، اسرائیل کی درخواست پر امریکہ بھی میدان میں آ گیا اور اس نے متعدد ایرانی ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے۔

ان دونوں ممالک نے IAEA کے بورڈ آف گورنرز کی حالیہ ایران مخالف قرارداد کو اپنی کارروائیوں کے لیے بہانہ بنایا۔اگر ایٹمی آفت واقع ہوئی تو اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔

انہوں نے خبردار کیا:اگر ایٹمی آفت واقع ہوئی تو اس کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا ہوں گے۔

مزید یہ کہ، وانگ نے کہا کہ چین ایران کے پرامن ایٹمی توانائی کے استعمال کے حق کا احترام کرتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) کا رکن ہے، اور اس لیے اسے پرامن ایٹمی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی برادری اب تک ایران کے ایٹمی معاملے پر پرامن حل کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔

وانگ یی نے کہا:اگرچہ دنیا نے امن کے دروازے پر دستک سنی، لیکن وہ اسے کھولنے میں ناکام رہی، اور اس پر چین کو گہرا افسوس ہے۔

وانگ کے مطابق اگر عالمی برادری نے ان مواقع سے فائدہ اٹھایا ہوتا، تو ایرانی ایٹمی معاملہ بین الاقوامی تنازعات کو مذاکرات اور مشاورت سے حل کرنے کی ایک مثال بن سکتا تھا۔

چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا:جنگ ایرانی ایٹمی مسئلے کا حل نہیں، اور طاقت کا غلط استعمال صرف تنازعات کو بڑھاوا دے گا اور نفرت کو گہرا کرے گا۔

انہوں نے خبردار کیا:اگر حق و باطل کا فیصلہ صرف طاقت کی بنیاد پر ہوگا تو قانون اور انصاف کہاں جائیں گے؟ حقیقی امن صرف طاقت سے حاصل نہیں کیا جا سکتا — یہ انسانیت کے لیے تباہی کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

مقبول مضامین

مقبول مضامین