تہران[مشرق نامہ]:ایران کی مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے 12,741 پروفیسروں نے ایک مشترکہ بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے خلاف بے ہودہ اور ڈھٹائی پر مبنی دھمکیوں کی شدید مذمت کی ہے۔
ہفتے کے روز جاری کیے گئے بیان میں بسیج اساتذہ تنظیم کے ارکان نے خبردار کیا کہ رہبرِ انقلاب کے تقدس کو نشانہ بنانے کی کسی بھیبدنیت اور توہین آمیز کوشش کی ایک ایسی ناقابلِ پیش گوئی قیمت ہو گی جو صرف ذمہ دار افراد ہی نہیں بلکہ امریکی دہشتگرد فوج کے تمام ایجنٹوں کے لیے دنیا کے کسی کونے میں بھی پناہ باقی نہیں چھوڑے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بچوں کے قاتل صہیونی ریاست اور اس کے مغربی سرپرست یہ نہ سمجھیں کہ ان کی غرور پر مبنی جارحیت سے تصادم ختم ہو جائے گا، بلکہ یہ ایک ختم نہ ہونے والی جنگ اور مسلسل تباہی کی بنیاد بنے گی۔
اساتذہ نے دنیا بھر کے ممتاز علماء، دانشوروں، صحافیوں اور لکھاریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نازک وقت میں اپنی تاریخی ذمہ داری پوری کریں اور مسلمان قوموں و آزاد فکر اقوام کو آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی روایتی زبان میں آیت اللہ خامنہ ای کے خلاف سخت زبان استعمال کی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی فوج اور امریکی افواج کو رہبر انقلاب کو قتل کرنے سے روک دیا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ واقعی ایران کے ساتھ کسی معاہدے میں سنجیدہ ہیں تو انہیں آیت اللہ خامنہ ای کے لیے احترام پر مبنی اور قابلِ قبول لب و لہجہ اختیار کرنا ہو گا۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایران پر بلااشتعال حملہ کیا تھا جس میں متعدد اعلیٰ ایرانی فوجی کمانڈرز اور جوہری سائنسدان شہید کر دیے گئے۔
اس کے بعد 22 جون کو امریکہ نے کھل کر اسرائیل کا ساتھ دیا اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور ایٹمی عدم پھیلاؤ معاہدے (NPT) کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کی تین جوہری تنصیبات پر حملے کیے۔

